رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: تارکینِ وطن ووٹر صدارتی انتخابات پر کیسے اثر انداز ہوں گے؟


فائل فوٹو

اس سال نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں شرکت کے اہل امریکی ووٹروں میں ہر دسواں ووٹ تارکین وطن کا ہوگا، جن کی تعداد دو کروڑ تیس ہزار، یعنی کل ووٹروں کا دس فی صد ہے۔

سیاسی مبصرین کی نظر میں اتنی بڑی تعداد میں تارکینِ وطن کی اس انتخاب میں شرکت کئی حوالوں سے اہمیت کی حامل ہے۔

لیکن، تارکینِ وطن کس حد تک ان انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہوں گے اس کا دار و مدار کئی عوامل پر ہو گا۔

تحقیق سے وابستہ ادارے 'پیو' ریسرچ کے مطابق تارکینِ وطن ووٹرز کی تعداد کا ایک بڑا حصہ یعنی اکسٹھ فی صد امریکہ کی پانچ بڑی ریاستوں میں مقیم ہے۔

ان ریاستوں میں امریکی شہریت اختیار کرنے والے پچپن لاکھ ووٹرز کیلی فورنیا میں رہتے ہیں۔ نیویارک اور فلوریڈا دونوں ریاستوں میں یہ تعداد پچیس پچیس لاکھ ہے۔

ٹیکساس میں اٹھارہ لاکھ جب کہ نیوجرسی میں ایسے ووٹرز کی تعداد بارہ لاکھ ہے۔

عدنان بخاری کا تعلق نیشنل امیگریشن لا سنٹر نامی ادارے سے ہے، جو تارکین وطن کو با اختیار بنانے اور ان کے حقوق کے دفاع کے لیے کام کرتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ تارکین وطن ووٹرز کی تعداد خاصی بڑی ہے اور وہ تین نومبر کو ہونے والے انتخاب پر یقیناٗ اثرانداز ہوںگے۔

ان کے مطابق گزشتہ چار سالوں میں ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے کیے گیے امیگریشن سے متعلق غیر معمولی فیصلوں اور اقدامات پر تارکین وطن کو بہت تشویش ہے اور وہ انہی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔

پاکستانی امریکی عدنان بخاری کہتے ہیں کہ یہ تاثر درست نہیں کہ تارکین وطن کے ووٹوں کی اہمیت ان پانچ بڑی ریاستوں تک محدود ہے، جہاں ان کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

بقول ان کے دنیا بھر سےآئے ہوئے ماہر اور محنت کش تارکین وطن اور امیگریشن کے حامی افراد تقریباً ہر جگہ موجود ہیں اور ان کے امریکہ کی ترقی میں اہم کردار کو لوگ تسلیم کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہم ایسی ریاستوں میں بھی کام کر رہے ہیں جو مکمل طور پر نہ نیلی یعنی ڈیموکریٹک اور نہ سرخ یعیئ ری پبلیکن ہیں اور انہیں سونگ یا انتخابی معرکے کے قابل خیال کیا جاتا ہے۔

ان ریاستوں میں فلوریڈا اور ٹیکساس کے علاوہ ایری زونا اور کولوراڈو بھی شامل ہیں۔ اور ہم وہاں بیانیہ کی جنگ کو امیگریشن کے حق میں تبدیل کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔

ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاستدان ایم جے خان کہتے ہیں کہ تارکیں وطن کی اہمیت سونگ ریاستوں میں اور بھی زیادہ ہے، کیونکہ وہاں ووٹوں کا توازن تھوڑی تعداد کے ووٹوں سے بھی بدلا جاسکتا ہے۔ فلوریڈا اور ٹیکساس ایسی دو بڑی فیصلہ کن ریاستیں ہیں۔

ہیوسٹن میں مقیم این جے خان کہتے ہیں کہ صدارتی چناو کے مقابلے میں تارکین وطن ووٹرز کانگرس کے الیکشن پر زیادہ اثرانداز ہوں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس الیکشن میں امیگریشن ایک اہم مسئلے کے طور پر استعمال ہو سکتاہے۔ انہوں نے کہاکہ اس مسئلہ کو سیاسی فٹبال بنانے کی بجاے دونوں پارٹیوں کو چاہیےکہ اسے امریکہ کہ مستقبل کی اقتصادی ترقی کے تناظر میں دیکھیں۔

اگر ری پبلکن پارٹی کے رہنما تارکین وطن کے دل جیتنےکی کوشش کریں تو وہ اس میں ایسے طریقے سے کامیاب ہو سکتے ہیں کہ وہ تارکین وطن کو ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹر نہ سمجھیں اور ری پبلیکن پارٹی کی روایتی سیاسی اقدار کے ذریعہ ان کو اپنی طرف مائل کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG