رسائی کے لنکس

پشاور: این اے-4 کے ضمنی انتخاب میں سیاسی جماعتوں کی زور آزمائی

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

حالیہ ہفتوں میں تقریباً سب ہی بڑی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت اس حلقے کے انتخاب کے لیے انتخابی جلسے منعقد کر چکی ہے

پشاور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 4 پر ضمنی انتخاب میں کچھ ہی دن باقی رہ گئے ہیں جہاں ملک کی تقریباً سب ہی بڑی جماعتوں نے نہ صرف اپنے امیدوار میدان میں اتارے ہیں بلکہ اس نشست کے لیے انتخابی مہم بھی عروج پر پہنچ چکی ہے۔

یہ نشست صوبے میں حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے ایک منحرف رکن قومی اسمبلی گلزار خان کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔ 26 اکتوبر کو ہونے والے انتخاب میں اس نشست کے لیے گلزار خان کے صاحبزادے اسد گلزار میدان میں ہیں لیکن وہ پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔

حلقے میں پولنگ 26 اکتوبر کو ہوگی جس کے لیے تحریکِ انصاف نے ارباب عامر ایوب کو میدان میں اتارا ہے۔

وفاق میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی طرف سے ناصر موسیٰ زئی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ مسلم لیگ کے امیدوار کو جمعیت علمائے اسلام (ف) اور آفتاب شیرپاؤ کی قومی وطن پارٹی کی حمایت بھی حاصل ہے۔

صوبے کی سابق حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی بھی حلقہ این اے 4 کے اس مقابلے میں شریک ہے اور اس نے صوبائی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر خوش دل خان کو میدان میں اتارا ہے۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ صوبے کے حکمران اتحاد میں شامل جماعت اسلامی نے بھی ضمنی انتخاب میں اپنا امیدوار کھڑا کیا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں تقریباً سب ہی بڑی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت اس حلقے کے انتخاب کے لیے انتخابی جلسے منعقد کر چکی ہے اور اتوار کو پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی یہاں ایک جلسے سے خطاب کیا۔

سیاسی امور کے تجزیہ کار اور سینئر صحافی شاہد حمید کہتے ہیں کہ اس نشست پر کامیابی کے لیے ہر جماعت بھرپور مقابلہ کرے گی کیونکہ اسے آئندہ عام انتخابات کے لیے کسی حد تک ووٹر کے رجحان کا بھی پتا چلے گا۔

مزید برآں اس ضمنی انتخاب میں حال ہی میں معرضِ وجود میں آنے والی ملی مسلم لیگ اور تحریکِ لبیک کے حمایت یافتہ امیدوار بھی میدان میں ہیں۔

ان جماعتوں کو بنیاد پرست حلقوں کی حمایت حاصل ہے اور ان کے حامی امیدواروں نے گزشتہ ماہ لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 میں پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG