رسائی کے لنکس

logo-print

'آئندہ عام انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں کروانے کا فیصلہ'


فائل فوٹو

پاکستان الیکشن کمیشن نے ملک میں رواں سال ہونے والے عام انتخابات کو ماتحت عدلیہ کے جج صاحبان کی نگرانی میں کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جمعے کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اس مقصد کے لیے عام انتخابات کے دوران ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفسروں اور ریٹرنگ آفسروں کے فرائض کی ادائیگی کے لیے ذیلی عدالتوں کے ججوں کو تعینات کیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ چار صوبوں کی ہائی کورٹ کو ذیلی عدالتوں کے ان ججوں کے نام فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے جو 2018ء کے عام انتخابات کے عمل کی نگرانی کریں گے۔

اگرچہ قانون کے تحت ریٹرنگ افسروں کے لیے ضروری نہیں کہ ان کا تعلق صرف عدلیہ سے ہوں۔

تاہم پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجیسٹیو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ کہ عمومی رائے عام انتخابات کو عدلیہ کی نگرانی میں کروانے کے حق میں ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی اپنی افرادی قوت اتنی نہیں کہ وہ الیکشن کے عمل کی پور ی طرح نگرانی کے کے لیے اپنے عہدیداروں کو متعین کر سکے۔

واضح رہے کہ 2013 ء کے عام انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود بعض سیاسی جماعتوں نے ان انتخابات کی صاف و شفاف ہونے کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا تاہم بعد ازاں ہونے والے تحقیقات میں یہ تحفظات بے بنیاد ثابت ہوئے۔

دوسری طرف پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے جمعے کو سرگودھا میں ایک عوامی جسلے سے خطاب کے دواران رواں ماہ ہونے والے سینیٹ کے انتخابات میں میں مبینہ طور پر ووٹوں کی خرید فروخت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پیسے کے بل بوتے پر ایوانوں میں آنے والے عوام کی خدمت نہیں کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پارلیمان کے ایوان بالاسینیٹ کے رواں ماہ کے وائل میں ہونے والے انتخاب کے دوران تقریباً ملک کے تمام بڑی جماعتوں کی طرف سے ایسے الزامات سامنے آئے کہ بعض امیدواروں نے ووٹ کے حصول کے لیے پیسے اور اثر ورسوخ کا استعمال کیا ہے تاہم اس حوالے سے ابھی تک کسی بھی جماعت یا فرد کی طرف سے الیکشن کمیشن کو ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG