رسائی کے لنکس

ن لیگ انتخابی نشان کی اہل نہیں رہی، الیکشن کمیشن


2013 کے عام انتخابات کے موقع پر راولپنڈی میں مسلم لیگ (ن) کی ایک ریلی کے دوران پارٹی کے حامیوں نے انتخابی نشان شیر کا ماڈل اٹھا رکھا ہے (فائل فوٹو)

معاملے کی مزید سماعت کے لیے الیکشن کمیشن نے آئندہ ماہ تین اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد نیا پارٹی صدر منتخب کرنے میں ناکامی پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آگاہ کیا ہے کہ ن لیگ اب پارٹی کا انتخابی نشان حاصل کرنے کی اہل نہیں رہی۔

اس کے برعکس مسلم لیگ نے موقف اختیار کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو کسی سیاسی جماعت کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام سیکریٹری جنرل احسن اقبال کو جاری کیے جانے والے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پارٹی صدر منتخب نہ کرنے کی وجہ سے ن لیگ اپنی پارٹی کے انتخابی نشان پر انتخابات لڑنے کی اہل نہیں رہی۔

اس معاملے کی مزید سماعت کے لیے الیکشن کمیشن نے آئندہ ماہ تین اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سردار رضا کی سربراہی میں 4 رکنی کمیشن معاملے کی سماعت کرے گا۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رجسٹریشن منسوخی کے لیے پاکستان تحریکِ انصاف، پاکستان عوامی تحریک اور دیگر کی الیکشن کمیشن میں دائر کردہ آئینی درخواستوں کا مسلم لیگ (ن)نے جواب جمع کرادیا ہے۔

مسلم لیگ (ن)کے چیئرمین راجہ ظفرالحق کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے جانے والے جواب میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو کسی سیاسی جماعت کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔

اپنے تحریری جواب میں ن لیگ نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کسی شخص کا نام نہیں بلکہ یہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا نام ہے۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ کوئی قانون اس بات سے نہیں روکتا کہ وہ شخص سیاسی جماعت کی سربراہی نہ کرے جسے مبینہ طور پر رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے نااہل قرار دیا جاچکا ہے۔

راجہ ظفرالحق نے اپنے جواب میں پارٹی اور قیادت پر لگائے جانے والے تمام الزامات کو بھی مسترد کیا۔

الیکشن کمیشن درخواست کی سماعت کا آغاز 18 اکتوبر سے کرے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG