رسائی کے لنکس

مستونگ میں سیکیورٹی آپریشن، داعش کے مبینہ 11 دہشت گرد ہلاک


مستونگ میں ایک بم دھماکے کے مقام پر لوگ جمع ہیں۔ بلوچستان کے بعض علاقوں میں کئی برسوں سے دہشت گردی کی کارروائیاں ہو رہی ہیں جن میں داعش اور بلوچ عسکریت پسندوں سمیت کئی گروپ ملوث ہیں۔ فائل فوٹو

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع مستونگ میں سیکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں کالعدم تنظیم داعش کے مبینہ 11 شدت پسندوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

کوئٹہ میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی جانب سے پیر کو رات گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پیر کی رات سی ٹی ڈی کے اہل کاروں نے ضلع مستونگ میں سیکیورٹی آپریشن کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر ضلع مستونگ کے علاقے قمر مزار عباد میں سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کی۔

سی ٹی ڈی بلوچستان نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم تنظیم داعش کا سرغنہ دہشت گرد عبدالحئی بھی اس آپریشن میں ہلاک ہو گیا۔

عبدالحئی رواں سال مستونگ میں پولیس موبائل پر مبینہ حملے میں ملوث تھا۔ اس حملے میں دو پولیس اہل کار ہلاک ہو گئے تھے۔

حکام کے مطابق پولیس وین پر حملے کے واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دوران تفتیش دہشت گردوں کے کیمپ کا سراغ لگا لیا تھا۔

پیر کی رات سی ٹی ڈی کے اہل کاروں نے دہشت گردوں کے کیمپ کا محاصرہ کیا اور وہاں موجود دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا۔

اس دوران دونوں جانب سے فائرنگ کے تبادلے میں کالعدم تنظیم داعش کے مبینہ 11 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

ترجمان نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے مبینہ طور پر 4 سب مشین گنز اور ایک لائٹ مشین گن برآمد ہوئی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کے کمپاؤنڈ سے 2 خودکش جیکٹوں کے علاوہ 3 نائن ایم ایم پستول، 8 ہینڈ گرنیڈز، بارودی مواد اور دیگر آلات کی برآمدگی کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ کالعدم تنظیم داعش بلوچستان میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں ملوث رہی ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے مچھ میں کان کنوں کو اغوا کرنے کے بعد شناخت کر کے قتل کرنے کی ذمہ داری بھی شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی تھی۔

داعش کے اس حملے میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے دس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مستونگ میں سیکیورٹی آپریشن میں ہلاک ہونے والے 11 افراد کی لاشوں کو سول اسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔

اسپتال ذرائع ان افراد کی شناخت کے حوالے کچھ بھی بتانے سے قاصر ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG