رسائی کے لنکس

چین کو پاکستان میں اپنے شہریوں پر حملوں پر تشویش: کیا مشترکہ حکمتِ عملی کام آئے گی؟


پاکستان میں جاری چین کے راہداری منصوبوں پر کام کرنے والے چینی کارکنوں کو دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

اسلام آباد اور بیجنگ نے پاکستان میں چینی کمپنیوں کی سیکیورٹی کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی ترتیب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں چینی کارکنوں پر حالیہ حملوں پر چین کو تشویش ہے لیکن وہ خوف زدہ نہیں۔

پاکستان میں کام کرنے والے چینی انجینیئروں کو نشانہ بنانے کے پے در پے واقعات پر چین نے اپنے شہریوں کی حفاظت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایسے میں وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید کہتے ہیں چین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے شہریوں کو ہر قسم کی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

سوموار کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران شیخ رشید کا کہنا تھا کہ چینی شہریوں اور ملک میں کام کرنے والی چینی کمپنیوں کی سیکیورٹی کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی ترتیب دی جا رہی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پے در پے حملوں سے چین کی جانب سے پاکستان میں اپنے شہریوں اور جاری راہداری منصوبوں پر تشویش بڑھ رہی ہے جس کا اب بیجنگ اعلانیہ اظہار کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں چینی سفارتِ خانے نے صوبہ بلوچستان کے شہر گوادر کے ایکسپریس وے پروجیکٹ پر چینی قافلے پر خودکش حملے کی مکمل تحقیقات اور قصورواروں کو سخت سے سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق جمعے کو ہونے والے خود کش حملے میں چینی انجینیئروں اور کارکنوں کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

حملے کی ذمہ داری بلوچ علیحدگی پسند جماعت بلوچستان لیبریشن آرمی نے قبول کی ہے جو کہ ماضی میں بھی اس قسم کے دھماکے کرتی رہی ہے۔

گوادر میں ہونے والا یہ حملہ صوبہ خیبر پختونخوا کے داسو ڈیم پر کام کرنے والے چینی انجینئرز کی بس پر ہونے والے حملے کے تقریباً ایک ماہ کے بعد ہوا ہے جس میں نو چینی شہریوں سمیت 13 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ماضی میں بھی راہداری منصوبوں پر کام کرنے والے چینی کارکنوں کو دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ تاہم افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے موقع پر ان میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے گوادر حادثے کے بعد اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ چین دہشت گردی کے خطرات کے انسداد اور اپنے شہریوں اور منصوبوں کی حفاظت کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ چین دہشت گردی کے ذریعے جیو پولیٹیکل مفادات کے حصول کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور علاقائی ممالک پر زور دیتا ہے کہ خطے میں امن اور ترقی کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی کے ذریعے دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ کیا جانا چاہیے۔

'بیجنگ کو حملوں پر تشویش ہے مگر ناراض نہیں'

حال میں بیجنگ میں سفارتی خدمات سے سبکدوش ہونے والے مسعود خالد کہتے ہیں چینی شہریوں پر حملوں کے حالیہ واقعات پر بیجنگ کو تشویش ہے مگر اسے چین کی ناراضگی نہیں کہا جاسکتا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے چینی شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے فوج کی دو ڈویژن بنائی گئی ہیں اور اب اس حوالے سے مشترکہ حکمتِ عملی کا فیصلہ خوش آئند ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے معاملے پر دونوں ملکوں کے درمیان ہم آہنگی پہلے سے پائی جاتی ہے اور اب چینی شہریوں کو ہدف بنانے والی قوتوں سے مل کر نمٹا جائے گا۔

سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی بھی سمجھتے ہیں کہ حالیہ عرصے میں پاکستان میں چین کے جاری منصوبوں کو ہدف بنا کر نشانہ بنایا جارہا ہے جو کہ بیجنگ کے لیے تشویش ناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ زیادہ تر واقعات میں ہدف حاصل کرنے میں کامیابی نہیں ہوئی مگر داسو ڈیم حملہ بڑے پیمانے پر اور خاصہ کامیاب تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ چین نے خاص طور پر اس معاملے کو اٹھایا ہے اور حالیہ واقعات کو دیکھتے ہوئے تقاضا کیا ہے کہ تحفظ کی حکمتِ عملی کو واضع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ چین کا حق ہے اور پاکستان بھی یہی چاہے گا کہ دوست ملک کے تحفظات دور ہو سکیں۔

تسنیم نورانی نے کہا کہ چین کے تحفظات اور حفاظت کو مد نظر رکھتے ہوئے فوج کی ایک ڈویژن بن گئی تھی تاکہ اس سرمایہ کاری میں خلل نہ آئے۔

سابق سفارت کار مسعود خالد بھی سمجھتے ہیں کہ دہشت گرد عناصر اب تک اپنے مقاصد میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے۔ ان کے بقول چین اور پاکستان جانتے ہیں کہ کون سی قوتیں علی الاعلان اور دروازے کے پیچھے سے راہداری منصوبوں کو نقصان پہنچانے کے در پے ہیں۔

مسعود خالد کہتے ہیں کہ حالیہ واقعات کو دیکھا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ ان حملوں میں وہ عناصر ملوث ہیں جو سی پیک کو آگے بڑھتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ ان عناصر سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت اچھی چیز ہے جس سے سیکیورٹی نظام کو بہتر اور خامیوں کو دور کیا جائے گا۔

سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی کہتے ہیں کہ مشترکہ حکمتِ عملی کے نتیجے میں خفیہ ادارے، فوج اور داخلہ تحفظ کے ادارے ہم آہنگی سے کام کریں گے جو کہ ایسے حملوں کو روکنے میں مددگار ہوگا۔

وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ چین کے منصوبوں کی حفاظت کی حکمتِ عملی موجود ہے تاہم اس کے باوجود اگر حملے ہو رہے ہیں تو اب اسے بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

تسنیم نورانی نے کہا کہ چین اس قسم کے واقعات پر تشویش ضرور رکھتا ہے مگر خوف زدہ نہیں ہے اور اس قسم کے واقعات اگر بڑے پیمانے پر نہیں ہوتے تو راہداری منصوبوں پر کام روکا نہیں جائے گا۔

خیال رہے کہ چین پاکستان راہداری منصوبوں میں بیجنگ 65 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے جو کہ چین کے 'بیلٹ اینڈ روڈ' منصوبے کا ابتدائی پراجیکٹ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG