رسائی کے لنکس

خواتین سے متعلق سماجی رویوں کو بدلنے پر زور


(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

پاکستانی خواتین کو بھی کئی طرح کے چیلنجوں کا سامنا ہے جس میں ان کے خلاف روا رکھنے جانے والے منفی رویے بھی باعث تشویش ہیں،جو  خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کا بھی باعث بنتے ہیں۔

خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر جمعہ کو پاکستان میں حقوق نسواں کے تحفظ کے لیے موثر قانون سازی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ خواتین سے متعلق مثبت سماجی رویوں کو فروغ دینا بھی ضروری ہے ۔

دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح پاکستانی خواتین کو بھی کئی طرح کی مشکلات کا سامنا ہے جس میں ان کے خلاف روا رکھنے جانے والے منفی رویے بھی باعث تشویش ہیں،جو خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کا بھی باعث بنتے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان میں خواتین کے خلاف جنسی اور جسمانی تشدد کے واقعات کے روک تھام کے لیے ہونے والی قانون سازی میں ایسے واقعات میں ملوث افراد کے لیے سخت سزائیں بھی مقرر کی گئی ہیں۔

تاہم خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا کہ قوانین کے اہمیت اپنی جگہ لیکن اس کے باوجود خواتین کے خلاف ہونے والے جنسی اور جسمانی تشدد کے واقعات میں کمی دیکھنے نہیں آئی ہے۔

خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی سربراہ خاور ممتاز نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ خواتین کو اگر معاشی اور سماجی طور پر با اختیار بنایا جائے تو ان کو درپیش مشکلات میں کمی آ سکتی ہے۔

"جب آپ دیکھتے ہیں کہ ایک خاتون کا انحصار دوسروں پر ہے وہ کہیں نہیں جا سکتی ہے اور اس کے لیے اسپورٹ کا نطام نہیں ہے تو پھر اس کے لیے وہیں رہنا مجبوری ہوتی ہے، لیکن اگر اس میں اعتماد ہو کہ میں اپنوں پیروں پر کھڑی ہو سکتی ہوں اور سرکاری ادارے یا غیر سرکاری ادارے اس کی مدد کے لیے موجود ہوں تو اس کا اثر ہو گا اور اس کے ساتھ مردوں کو بھی اپنی سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔"

تاہم انہوں نے کہا کہ مردوں کے رویوں کو تبدیل کرنے کے لیے ایک ہمہ گیر مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

"یہ جو ہمارا ماحول ہے جو مردوں کو فوقیت دی جاتی ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ یہ ان کاحق ہے اس کی بھی ہمیں نفی کرنی ہے، یہ میڈیا کے ذریعے، اسکول کی کتابوں سے ہو گا اور خواتین کو (معاشرے) کے مرکزی دھارے میں لانے سے ہو گا یہ ایک عمل ہے اور ایک دن میں نہیں ہو گا ۔۔۔۔لیکن ہماری کوشش ہے کہ خواتین کے بااختیار کرنے کے لیے اقدامات کرتے رہیں۔"

پاکستان میں 'غیر ت کے نام پر قتل' کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جس میں لڑکیوں اور خواتین کو اپنی پسند کی شادی یا قبائلی و معاشرتی رسم و رواج کے برخلاف طرز عمل اختیار کرنے پر قتل کر دیا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کے موقر ادارے ہیومن رائٹس کمشین آف پاکستان کے مطابق گزششہ سال ملک میں غیر ت کے نام پر خواتین کے قتل کے 987 واقعات رپورٹ ہوئے۔

XS
SM
MD
LG