رسائی کے لنکس

امریکہ قطر سے اپنے فوجی اڈے کی منتقلی پر غور کرے، امارات


قطر میں امریکی فوج کے زیرِاستعمال العدید ایئر بیس کے ایک حصے کا فضائی منظر (فائل)

دریں اثنا ترکی کے وزیرِ خارجہ میولت جاووسوغلو بدھ کو قطر پہنچ رہے ہیں جہاں وہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی سے حالیہ بحران پر تبادلۂ خیال کریں گے۔

امریکہ میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبہ نے امریکی حکومت سے کہا ہے کہ وہ قطر میں قائم اپنے فوجی اڈے کی کہیں اور منتقلی پر غور کرے۔

منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امارات کے سفیر نے کہا کہ قطر کےپڑوسی ممالک چاہتے ہیں کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت انتہاپسندوں کی مبینہ مدد روکنے کے لیے قطر پر دباؤ بڑھانے میں کردار ادا کرے۔

قطر کا العدید ایئربیس مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کا ایک بڑا اڈہ ہے جہاں لگ بھگ 10 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ اس اڈے پر امریکی سینٹرل کمانڈر کا آپریشنل ہیڈکوارٹر بھی قا ئم ہے۔

امارات کے سفیر کا مزید کہنا تھا کہ ان کے ملک نے تاحال امریکہ کو قطر سے فوجی ایئربیس کی منتقلی کا مشورہ نہیں دیا لیکن وہ اس بارے میں امریکی حکام سے بات کرنے کےخواہش مند ہیں۔

انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر امریکہ قطر سے اپنے فوجی منتقل کرنے کا فیصلہ کرے تو متحدہ عرب امارات ان کی میزبانی کرسکتا ہے۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور خطے کے دیگر عرب ملکوں نے رواں ماہ قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے اور اس کے معاشی اور سفری بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

ان ممالک کا الزام ہے کہ قطر شدت پسند تنظیموں کی پشت پناہی اور انہیں وسائل فراہم کر رہا ہے۔ قطر ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکہ میں امارات کے سفیر کا مزید کہنا تھا کہ قطر کے پڑوسی ممالک جلد امریکہ کو ان اقدامات پر مبنی فہرست فراہم کردیں گے جو وہ قطر کی حکومت سے چاہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان اقدامات میں ان افراد کے بینک اکاؤنٹس پر قطر کی جانب سے پابندی کا مطالبہ بھی شامل ہوگا جن پر پڑوسی ممالک پہلے ہی پابندی عائد کرچکے ہیں۔

یوسف العتیبہ نے کہا کہ ان کا ملک اور خود امریکہ ایک عرصے سے قطر کے "خراب رویے" کو نظر انداز کر رہے تھے لیکن اب وہ قطر کی ریشہ دوانیوں کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔

ترکی کے وزیرِ خارجہ کا دورۂ قطر

دریں اثنا ترکی کے وزیرِ خارجہ میولت جاووسوغلو بدھ کو قطر پہنچ رہے ہیں جہاں وہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی سے حالیہ بحران پر تبادلۂ خیال کریں گے۔

ترک وزارتِ خارجہ کےمطابق جاووسوغلو دورے کے دوران اپنے قطری ہم منصب سے بھی ملاقات کریں گے جس میں بحران کے حل کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

ترکی خطے کا وہ واحد ملک ہے جو قطر کی حمایت میں کھل کر سامنے آیا ہے اور ترک صدر رجب طیب ایردوان نے خلیجی عرب ملکوں کی جانب سے قطر کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے اقدام کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر کے ساتھ "پھانسی کی سزا پانے والے قیدی جیسا سلوک" کیا جارہا ہے۔

ترک پارلیمان نے گزشتہ ہفتے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت قطر میں واقع ترکی کے فوجی اڈے پر ترک فوج کے مزید دستے تعینات کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔

ترک فوج کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق اس کا ایک تین رکنی وفد اس وقت قطر کے دورے پر ہے جو وہاں فوجیوں کی تعیناتی کے انتظامات کا جائزہ لے رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG