رسائی کے لنکس

ترکی کا اپنی فوج قطر بھیجنے، دفاعی تعاون میں اضافے کا اعلان


فائل

صدر ایردوان نے جمعرات کی شب قطر کے ساتھ ایک اور معاہدے کی منظوری بھی دی ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان افواج کے تربیت کے لیے تعاون اور مشترکہ فوجی مشقیں کی جائیں گی۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے قطر میں قائم ترکی کے ایک فوجی اڈے پر تین ہزار تک ترک فوجیوں کی تعیناتی کی منظوری دیدی ہے۔

ترکی کی پارلیمان نے بدھ کو قطر میں فوج کی تعیناتی کی منظوری دی تھی جس کی صدر ایردوان کی جانب سے فوری توثیق سےقطر کے لیے ترکی کی حمایت کا اظہار ہوتا ہے۔

صدر ایردوان نے جمعرات کی شب قطر کے ساتھ ایک اور معاہدے کی منظوری بھی دی ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان افواج کے تربیت کے لیے تعاون اور مشترکہ فوجی مشقیں کی جائیں گی۔

ترکی کی جانب سے یہ دونوں اقدامات ایسے وقت کیے گئے ہیں جب قطر کو خطے کے بیشتر عرب ملکوں کی جانب سے سخت سفارتی اور تجارتی بائیکاٹ کا سامنا ہے۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے پیر کو قطر پر اسلام پسند جنگجووں کی حمایت اور ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کا الزام عائد کرتے ہوئے سفارتی تعلقات منقطع اور زمینی، فضائی اور سمندری رابطے اور تجارت معطل کردی تھی۔

بعد ازاں کئی دیگر اسلامی ممالک بھی قطر کے بائیکاٹ میں شریک ہوگئے تھے۔قطر نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے تنازع بات چیت سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ترک حکومت نے سعودی عرب کی جانب سے قطر کے ساتھ زمینی سرحد بند کرنے کے نتیجے میں قطر میں خوراک کی قلت پیدا ہونےکے خطرے سے نبٹنے کے لیے دوحا حکومت کو خوراک، پانی اور دیگر ضروری اشیا مہیا کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

صدر ایردوان واضح کیا ہے کہ قطر کو تنہا کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں اور ترکی خطے میں پیدا ہونے والے اس بحران کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔

ترک صدر بحران پیدا ہونے کے بعد سے سفارتی رابطوں میں بھی مصروف ہیں اور انہوں نے اس سلسلے میں سعودی عرب اور قطر کے حکمرانوں اور امیرِ کویت سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔

کویت کے امیر بھی قطر اور دیگر عرب ریاستوں کے درمیان کھڑے ہونے والے حالیہ تنازع کے سفارتی حل کے لیے سرگرم ہیں۔

تاہم ترکی کی جانب سے قطر کی حمایت میں کھل کر سامنے آنے اور قطر میں ترک فوج تعینات کرنے کے فیصلے کے بعد امکان ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی اس پر برہم ہوں گے جس سے ایردوان کی مصالحتی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

ترکی اور قطر کے درمیان قریبی دوستانہ تعلقات ہیں اور دونوں ملکوں کی حکومت مصر اور دیگر عرب ملکوں میں سرگرم اسلام پسند جماعت اخوان المسلمون کی مدد کرتے رہے ہیں جو حالیہ تنازع کی ایک بڑی وجہ ہے۔

مصر اور خلیجی عرب ریاستوں کے حکمران اخوان المسلمون کو اپنے اقتدار کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں۔

قطر کے بائیکاٹ کا آغازکرنے والے ابتدائی چار ملکوں نے گزشتہ روز قطر سے کسی نہ کسی طور منسلک 59افراد اور 12 اداروں کی ایک فہرست جاری کی تھی جو ان ملکوں کے بقول دہشت گردی یا اس کی حمایت میں ملوث ہیں۔

اس فہرست میں اخوان المسلمون کے ایک اہم رہنما اور عالمِ دین یوسف القرضاوی کا نام بھی شامل ہے جو قطر میں مقیم ہیں۔

قطر کے وزیرِ خارجہ نے اس فہرست پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ملک اپنی آزاد خارجہ پالیسی سے دستبردار نہیں ہوگا اوراسے تنہائی کا شکار کرنے کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG