رسائی کے لنکس

logo-print

اولڈ ٹریفورڈ ٹیسٹ کا پہلا دن انگلش بیٹسمینوں کے نام


انگلینڈ کو اس گراؤنڈ پر آخری مرتبہ 2001ء میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس کے بعد انگلینڈ نے یہاں 9 ٹیسٹ میچز کھیلے ، 7میں کامیابی حاصل کی جبکہ دو میچ بے نتیجہ رہے۔

اولڈ ٹریفورڈ ٹیسٹ کا پہلا دن انگلش بیٹسمینوں کے نام رہا جنہوں نے کھیل کے اختتام تک 314 رنز بنالئے جبکہ پاکستانی بولرز سر توڑ کوشش کے باوجود صرف 4 ہی کھلاڑیوں کو آؤٹ کرسکے۔ الیسٹر کک اور جو روٹ نے سنچریاں اسکور کیں۔جو روٹ 141 رنز کے ساتھ کریز پر اب بھی موجود ہیں۔

اولڈ ٹریفورڈ ، مانچسٹر میں کھیلے جارہے ٹیسٹ میں الیسٹر کک نے ٹاس جیت کر پہلے اپنے بیٹسمینوں کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔ انگلش ٹیم کی پہلی وکٹ جلد گر گئی کیوں کہ ہیلس صرف 10 رنز بناکر عامر کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔

اس کے بعد کک اور جو روٹ نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے دوسری وکٹ کی شراکت میں 185 رنز جوڑے۔

اس دوران دونوں بیٹسمینوں نے وکٹ کے چاروں طرف دلکش اسٹروکس کھیلےلیکن پاکستانی بولرز نے بھی ہمت نا ہاری اور بالآخر عامر نے کپتان الیسٹر کک کو 105 رنز پر پویلین روانہ کردیا، اس وقت انگلینڈ کا مجموعی اسکور 210 رنز تھا۔

الیسٹر کک کی بحیثیت انگلش کپتان یہ 11 ویں سنچری ہے۔ اس سے قبل گراہم گوچ نے بھی 11 سنچریاں اسکور کی تھیں۔

بطورکپتان الیسٹر کک کا یہ 50 واں ٹیسٹ ہے ، اس سےقبل مائیک اتھرٹن 54 اور مائیکل وان نے 51 ٹیسٹ میچوں میں انگلش ٹیم کی قیادت کی تھی۔

پاکستان کی طرف سے محمد عامر اور راحت علی نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں تاہم پہلے ٹیسٹ کے ہیرو یاسر شاہ ایک بھی وکٹ لینے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

چار ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز میں پاکستان کو ایک۔صفر کی برتری حاصل ہے۔ لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان نے انگلینڈ کو 75 رنز سے شکست دی تھی۔

انگلینڈ کو اس گراؤنڈ پر آخری مرتبہ 2001ء میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس کے بعد انگلینڈ نے یہاں 9 ٹیسٹ میچز کھیلے ، 7 میں کامیابی حاصل کی جبکہ دو میچ بے نتیجہ رہے۔

XS
SM
MD
LG