رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کو 54 رنز سے شکست، سیریز 0-4 سے انگلینڈ کے نام


پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان آخری ایک روزہ میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو 54 رنز سے شکست دے کر پانچ میچوں کی سیریز 4-0 سے جیت لی ہے۔

انگلینڈ نے پہلے کھیلتے ہوئے 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 351 رنز بنائے۔ یوں پاکستان کو میچ جیتے کیلئے 352 رنز کا ہدف ملا لیکن میچ کے پہلے تین اووروں میں تین وکٹیں صرف 6 رنز پر گر جانے اور پھر انگلینڈ کے کھلاڑیوں کی شاندار فیلڈنگ کے باعث پاکستان کی پوری ٹیم مقررہ اوورز میں 297 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

تین وکٹیں جلد گر جانے کے بعد بابر اعظم اور کپتان سرفراز احمد نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں 142 رنز بنائے جس سے اُمید پیدا ہو گئی تھی کہ پاکستان مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ تاہم وکٹ کیپر بٹلر نے بابر اعظم اور پھر سرفراز احمد کو زبردست حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے رن آؤٹ کر دیا۔ سرفراز احمد نے 97 اور بابر اعظم نے 80 رنز بنائے۔ شعیب ملک کو عادل رشید نے اپنی ہی گیند پر کیچ آؤٹ کیا۔ وہ صرف چار رنز بنا سکے۔

عماد وسیم اور آصف علی نے صورت حال سنبھالنے کی کوشش کی لیکن آصف علی 22 اور عماد وسیم 25 رنز بنا کر اپنی وکٹیں گنوا بیٹھے۔ آؤٹ ہونے والے نویں کھلاڑی حسن علی تھے جنہوں نے 11 رنز بنائے۔ شاہین شاہ آفریدی اور محمد حسنین نے آخری وکٹ کیلئے زرور دار شاٹس کھیلتے ہوئے 47 رنز کی شراکت قائم کی۔ تاہم وہ اپنی ٹیم کو ہدف کے قریب نہ پہنچا سکے اور پوری ٹیم 46.5 اوورز میں 297 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ 19 سالہ محمد حسنین نے 17 گیندوں پر ایک چھکے اور چار چوکوں کی مدد سے 28 رنز بنائے جبکہ 18 سالہ شاہین شاہ آفریدی 19 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔

انگلینڈ کی طرف سے کرس ووکس نے 54 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ اُنہیں مین آف دا میچ قرار دیا گیا۔ انگلینڈ ہی کے جیسن روئے مین آف دا سیریز قرار پائے۔

انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 351 رنز بنائے۔

35 اوورز کے اختتام تک انگلینڈ نے چار وکٹوں کے نقصان پر 255 رنز بنا لئے تھے اور توقع تھی کہ شاید انگلینڈ کی ٹیم 400 سے زیادہ رنز بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ تاہم شاہین شاہ آفریدی اور عماد وسیم کی نپی تلی بالنگ کے باعث انگلینڈ کی ٹیم 50 اوورز میں 9 وکٹیں کھو کر 351 رنز بنا سکی۔

انگلینڈ کی طرف سے جو روٹس 73 گیندوں پر 84 رنز کے ساتھ سب سے نمایاں رہے۔ ان کے علاوہ کپتان مورگن نے 64 گیندوں پر 76، بٹلر نے 34 گیندوں پر 34، جیمز ونس نے 32 گیندوں پر 33، بیئر سٹو پر 21 گیندوں پر 32 اور کرن نے 15 گیندوں پر ناقابل شکست 29 رنز بنائے۔

پاکستان کی طرف سے شاہین شاہ آفریدی نے 82 رنز دے کر 4 اور عماد وسیم نے 53 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں کو پیویلین کی راہ دکھائی جبکہ محمد حسنین نے 67 اور حسن علی نے 70 رنز دے کر ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

میچ کے بعد پاکستان ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ اس سیریز میں ان کی ٹیم کی کاکردگی ورلڈ کپ کے تناظر میں اچھی ثابت نہ ہوئی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ٹیم کی بیٹنگ شاندار رہی جبکہ بالنگ اور فیلڈنگ کمزور رہی۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ کیلئے شاداب خان اور محمد عامر کی ٹیم میں واپسی بہت اہم ہو گی۔

انگلینڈ کی ٹیم کے کپتان ائن مورگن نے کہا کہ جیسن روئے کی اس سیریز میں کارکردگی انتہائی شاندار رہی اور انہوں نے جونی بیئرسٹو کے ساتھ مل کر زبردست اعتماد سے بیٹنگ کی۔

اس میچ میں شکست پاکستانی ٹیم کی ایک روزہ میچوں میں مسلسل 10 ویں شکست تھی۔ یوں ورلڈ کپ کیلئے آئندہ جمعرات تک حتمی پاکستانی سکواڈ کی تیاری کیلئے پاکستانی سیلکٹرز کو کافی غور و خوض کرنا ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG