رسائی کے لنکس

logo-print

سمندری حیات کا سرچشمہ بچانے کی نئی امید


سمندر کی تہہ پر کئی دلکش رنگوں میں موجود مرجان راک، جنہں عام طور پر کورل ریف کہا جاتا ہے، زیر آب دنیا کے 25 فیصد نباتات اور حیوانات کے لئے زندگی کی ضمانت ہیں۔

یہی نہیں بلکہ یہ پودا نما جانور ساحلوں کو سمندری طوفانوں سے بچاتے ہیں اور انسانوں کے لیے خوراک اور روزگار کا ذریعہ بھی ہیں۔ اوشن سوسائٹی تنظیم کے مطابق، کورل ریف کی اقتصادی قدر تیس ارب ڈالر سے زیادہ ہے، جبکہ دنیا کے نصف ارب لوگ خوراک اور روزگار کے لیے مرجان پر انحصار کرتے ہیں۔

لیکن ماحولیاتی آلودگی نے کورل ریف کے وجود کو خطرے میں ڈال رکھا ہے ۔یہاں تک ک سائنسدان دانوں کے مطابق گزشتہ چالیس سال میں کورل ریف کا تقریبا نصف حصہ ختم ہوگیا اور آئندہ تیس برس میں بقیہ ماندہ کورل کے ختم ہونے کا اندیشہ ہے۔

کورل ریفس نامی جریدے میں چھپی تازہ ترین تحقیق کے مطابق، چٹانوں پر پھیلنے والے مرجان کی باہاماس کے قریب ایک ایسی قسم کی شناخت کی گئی جس میں عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو برداشت کرنے کی سکت ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق، جب سمندر میں درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے تو کورل ریف سفید ہوجاتے ہیں اور یہ عمل، جسے انگریزی میں بلیچنگ کہتے ہیں، ان کے خاتمے کا سبب بنتا ہے۔

یہ کورل اس وقت سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز بنا جب 2015 میں جزیرے کے چٹانوں پر زیادہ تر کورل پانی کا درجہ حرارت 91 ڈگری پہنچنے کی وجہ سے سفید ہوگئے، جبکہ یہ کورل اس درجہ حرارت میں زندہ رہا۔ اس کے برعکس ایک اور کورل جزیرے سے تقریباً بارہ میل کے فاصلے پر کئی درجے کم حرارت میں ختم ہوگیا۔

اب سائنسدانوں کے مطابق، اس قائم رہنے والے کورل سے لیبارٹری میں زیادہ درجہ حرارت برداشت کرنے والے کورل پیدا کیے جا سکتے ہیں، اور یوں، ان کو سمندر میں بحال کیا جا سکتا ہے۔

محقق راس کننگ کے مطابق، اس چٹان پر جہاں یہ کورل سفید ہونے کے عمل میں زندہ رہا، اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ یہ جاندار کیسے گرم پانی میں بچتا اور زندہ رہتا ہے۔

اگر امریکہ میں دیکھا جائے تو 2014 کی بلیچنگ، یعنی کورل کے سفید ہونے کے عمل کے بعد، فلوریڈا کے ساتھ پانی میں اس نباتاتی مرکز حیات کی بہت کمی واقع ہوئی ہے۔

میامی یونیورسٹی میں روزنٹیل اسکول آف میرین اینڈ ایٹماسفیرک سائنس میں تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کی توجہ اس وقت مائیکرو ارگنزم یعنی ایک چھوٹے سے جاندار 'ایلگا' پر مرکوز ہے جو کورل کے اندر رہ کر اسے خوراک اور توانائی مہیا کرتا ہے۔

میامی کے پبلک ریڈیو، ڈبلیو این آر این کے مطابق، تحقیق کی مصنفہ کیٹی پارکر کہتی ہیں کہ کورل اور ایلگا کے بیج ایک بہت اہم شراکت داری ہے۔

ان کے مطابق، کورل کی مختلف اقسام کو سمجھنے کے لئے انسانوں پر نظر ڈالی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ تمام انسان بنیادی طور پر ایک ہی اسپیشیز سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن مختلف جینز ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے مختلف نظر آتے ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ گرمی میں آسانی سے رہ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اسی طرح کورلز میں بھی سمندری درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے ایک قسم کا کورل اس ماحولیاتی تبدیلی میں محفوظ رہا جبکہ باقی کورل نہیں بچ سکے۔

اور اب سائنسدان اس قسم کے بچ جانے والے کورل اور اس کے اندر موجود ایلگا پر تحقیق کر رہے ہیں، تاکہ ان کو لبارٹری میں پیدا کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں اگر ان کے جینز کی مختلف اقسام ہیں تو اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ مختلف کورل گرم درجہ حرارت میں بچ سکیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG