رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی نے شام میں جنگ بندی کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا


رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ ترکی پر عائد پابندیوں اور روس نواز شامی فورسز کی ترک سرحد کے قریب گشت کا اُنہیں کوئی خوف نہیں ہے۔

ترکی نے شام کے شمالی علاقوں میں فوجی کارروائی روکنے کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے ترکی پر عائد پابندیوں اور روس نواز شامی فورسز کی ترک سرحد کے قریب گشت کا اُنہیں کوئی خوف نہیں ہے۔

منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے رجب طیب ایردوان نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ "وہ ہم پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ ہم آپریشن روک دیں اور پابندیوں کا اعلان کر رہے ہیں۔ تاہم، ہم اپنے مقاصد کے حصول کے لیے واضح ہیں۔"

اُن کے بقول، ’’ہمیں کسی بھی طرح کی پابندی کا کوئی خوف نہیں ہے‘‘۔

ترک صدر کا بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب امریکی نائب صدر مائیک پینس اور وزیر خارجہ مائیک پومپیو بدھ کو ترکی کا دورہ کر رہے ہیں۔

ترک صدر سے ان کی جمعرات کو انقرہ میں ملاقات بھی متوقع ہے۔

دوسری جانب روس کے صدارتی دفتر سے بدھ کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ولادی میر پیوتن اور ترک ہم منصب کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، جس کے دوران انہوں نے شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور اُنہیں دورہ روس کی دعوت بھی دی ہے۔

روسی صدارتی دفتر کے ترجمان دمتری پیسکو نے بدھ کو پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ترک فوج کی کارروائی سے شام میں سیاسی عمل کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے اور انقرہ کا ایکشن متناسب ہونا چاہیے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ شامی صدر بشارالاسد روس کے قریبی اتحادی ہیں۔ تاہم، روس ترکی کے اپنے دفاع کے حق کا احترام کرتا ہے۔

یاد رہے صدر ٹرمپ کے شام سے امریکی فوج کے انخلا کے اعلان کے بعد ترکی نے رواں ماہ کے آغاز پر شام کے شمالی علاقوں میں کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔

ترکی کا مؤقف ہے کہ کردوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کا مقصد کرد افواج کو سرحدی علاقے سے نکال کر وہاں 32 کلو میٹر کا ایک سیف زون بنانا ہے جہاں شام سے آنے والے 20 لاکھ مہاجرین کو آباد کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکی فوج کے انخلا کے بعد خالی ہونے والے فوجی اڈوں پر شامی فوج نے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

سوشل میڈیا پر پروپیگینڈا کرنے کے الزام میں ترک حکام نے متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔

ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے ’انادولو‘ کے مطابق حکام نے شام میں فوجی کارروائی سے متعلق سوشل میڈیا پر’جھوٹا پروپیگینڈا‘ کرنے کے الزام میں 24 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

’رائٹرز‘ کے مطابق، شام میں فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد ترک حکام نے اس آپریشن پر تنقید کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں سیکڑوں افراد کے خلاف تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG