رسائی کے لنکس

logo-print

ترک پارلیمان کا لیبیا فوج بھیجنے کا فیصلہ جنوری میں متوقع: اردوان


استنبول: اردوان جمعرات کو ترک پارلیمان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ جنوری کے اوائل میں لیبیا فوج بھیجنے کے اختیار کے معاملے پر قانون ساز رائے دہی میں حصہ لیں گے، تاکہ اقوام متحدہ کی حمایت سے طرابلس میں قائم حکومت کی مدد کی جا سکے۔

اردوان نے کہا کہ تعطیلات سے واپسی پر پارلیمان جنوری کی آٹھ یا نو تاریخ کو اس اقدام پر بحث کا آغاز کرے گی۔

پارلیمان میں ان کی جماعت کو اکثریت حاصل ہے۔ اس لیے اقدام کی منظوری متوقع ہے، حالانکہ حزب اختلاف کی اہم جماعت نے لیبیا میں فوجی مداخلت کے خلاف اعتراض اٹھایا ہے۔

اردوان نے کہا ہے کہ اس اقدام کی ضرورت اس لیے پیش آئی چونکہ لیبیا کے وزیر اعظم فیاض سراج نے مدد کی درخواست کی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے گذشتہ ماہ استنبول میں سیکورٹی کے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں۔

سراج کی قومی وحدت پر مشتمل حکومت جنرل خليفہ بالقاسم حفتر کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کے خلاف دفاع کر رہی ہے۔ حفتر مشرقی لیبیا کے فی الحقیقت حکمران ہیں، جو طرابلس پر قبضے کے خواہشمند ہیں۔

جنرل حفتر اور مشرقی لیبیا میں ان کی مد مقابل حکومت کو متعدد ملشیاؤں اور غیر ملکی حکومتوں کی حمایت حاصل ہے۔

سال 2011ء سے لے کر اب تک ملک عدم استحکام کا شکار ہے، جب طویل مدت سے اقتدار پر براجمان رہنے والے معمر قذافی کو ہٹا کر ہلاک کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG