رسائی کے لنکس

logo-print

ایتھوپیا: گلوکار کے قتل کے خلاف مظاہروں میں 156 افراد ہلاک


اتھیوپیا کا معروف مقتول گلوکار ہاکالو ہن دی سا، فائل فوٹو

ایتھوپیا کے ایک مقبول گلوکار کے قتل کے بعد ہونے والے مظاہروں میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر156 تک پہنچ گئی ہے۔ ابتدا میں یہ تعداد 80 بتائی گئی تھی۔

یہ مظاہرے پیر کی رات موسیقار ہاکالو ہن دی سا کے قتل کے بعد عدیس ابابا میں شروع ہوئے تھے جو بعد ازاں اورومیا ریجن کے گرد و نواح میں پھیل گئے۔

اورومیا کی سیکیورٹی اور امن بیورو کے سربراہ جبریل محمد نے بتایا کہ 156 ہلاکتیں وہ ہیں جو صرف اورومیا ریجن میں ہوئی ہیں جو مظاہروں کے دوران بدترین واقعات میں سے ایک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مزید ہلاکتوں کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ابھی بہت سے افراد اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ اب تک جو افراد ہلاک ہوئے ہیں، ان میں سے 145 عام شہری جب کہ 11 سیکیورٹی اہل کار ہیں۔

عدیس ابابا کی پولیس نے کہا ہے کہ اورومیا میں مظاہروں کے دوران 2280 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں علاقے کا ایک معروف سرگرم کارکن جوار محمد اور اس کے 30 سے زیادہ ساتھی بھی شامل ہیں۔تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان پر کیا دفعات لگائی گئی ہیں۔

اورومیا میں ایتھوپیا کا سب سے بڑا نسلی گروپ آباد ہے، لیکن 2018 میں ایبی احمد کے وزیر اعظم بننے سے پہلے ملکی سیاست میں اس علاقے کا کوئی قابل ذکر حصہ نہیں رہا۔

یہ ہنگامے ایک مقبول گلوکار ہاکالو ہن دی سا کے قتل کے بعد شروع ہوئے جسے حکومت مخالف تحریک میں ایک نمایاں آواز کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور جس کے نتیجے میں ایبی احمد اقتدار میں آئے۔ انہیں جمعرات کو سپرد خاک کیا گیا اور ان کی تدفین کی رسومات قومی ٹیلی وژن پر دکھائی گئیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں پھیلنے والی حالیہ بدامنی وزیراعظم کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کے لیے سب سے بڑا امتحان ہے۔ انہیں گزشتہ سال اپنے ملک میں نمایاں اصلاحات کرنے پر نوبیل امن انعام دیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG