رسائی کے لنکس

logo-print

'بوئنگ اپنے فلائٹ کنٹرول سسٹم کا جائزہ لے'


ایتھوپین وزیر ٹرانسپورٹ نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہی ہیں.

ایتھوپیا کی وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ 10 مارچ کو حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے عملے نے حادثے سے قبل بوئنگ کے وضع کردہ طریقۂ کار پر عمل کیا تھا۔

جمعرات کو حادثے کی پہلی سرکاری رپورٹ جاری کرتے ہوئے ڈیگماویت موگس کا کہنا تھا کہ جب طیارہ زمین کی جانب بڑھنے لگا تو پائلٹوں نے طیارہ ساز کمپنی کے بتائے گئے طریقۂ کار پر عمل کیا، لیکن وہ طیارے کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہے۔

وزیر ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ تفتیش کاروں نے بوئنگ کمپنی سے کہا ہے کہ وہ اپنے فلائٹ کنٹرول سسٹم کا جائزہ لے اور اسے بہتر بنائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بوئنگ کی جانب سے خامیاں دور کرنے اور ایوی ایشن حکام کی طرف سے گرین سگنل ملنے کے بعد ہی اب بوئنگ 737 ماڈل کے طیاروں کو اڑان بھرنے کی اجازت دی جائے گی۔

چھ ماہ کے دوران پیش آنے والے دو حادثوں کے بعد دنیا کی متعدد ہوائی کمپنیوں نے بوئنگ 737 میکس ماڈل کے طیاروں کی پرواز روک دی تھی۔

ایتھوپین وزیر ٹرانسپورٹ نے مزید بتایا کہ تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ماضی میں اس ساخت کے طیاروں کے کنٹرول سسٹم میں خرابی کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔

ایتھوپین ایئرلائن کی پرواز ای ٹی 302 دارالحکومت ادیس ابابا سے پرواز بھرنے کے کچھ منٹ بعد ہی گر کر تباہ ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں عملے سمیت 157 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس سے قبل اسی ساخت کا انڈونیشین ایئرلائنز کا طیارہ دارالحکومت جکارتہ سے پرواز کے فوری بعد گر کا تباہ ہو گیا تھا۔ اس حاددثے میں 180 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG