رسائی کے لنکس

برسلز: پناہ کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد افغان مہاجرین کی پریشانی میں اضافہ


ایک افغان خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ (فائل فوٹو)

یورپی یونین میں شامل چھ ملکوں نے کہا ہے کہ وہ ان افغان پناہ گزینوں کو واپس ان کے ملک بھیجنا چاہتے ہیں جن کی پناہ حاصل کرنے کی درخواستیں مسترد ہوگئی ہیں۔ دوسری طرف برسلز میں یورپی یونین کے حکام نے کہا ہے کہ ایسی بات ناقابل فہم ہے کہ گروپ کا کوئی بھی رکن ملک ایسے وقت میں افغان مہاجروں کو ان کے ملک واپس بھیجے گا جب افغانستان میں جنگ جاری ہے اور امریکہ اور نیٹو کے فوجی انخلا کے وقت طالبان مختلف مقامات پر کنٹرول حاصل کر رہے ہیں۔

یورپی یونین نے کہا ہے کہ یہ رکن ملکوں پر منحصر ہے کہ وہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔

اس بیان کے آنے کے بعد یہ ابہام مزید بڑھ گیا ہے کہ آیا مہاجرین سے متعلق حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار یورپی کمیشن کے پاس ہے یا رکن ملکوں کے پاس۔
برسلز میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ایک عہدیدار نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں متاثرین کو زبردستی ان کے ملک واپس بھیجنا ناقابل تصور ہے، کیونکہ اس براعظم میں فوری طور پر افغانستان سے مہاجریں کی بڑی تعداد کے آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

ادھر پناہ تلاش کرنے والے افغان مہاجرین کی درخواست مسترد ہونے پر ان کو واپس بھیجنے کے حق میں زور دینے والے چھ ممالک نے یورپی کمیشن کو ایک خط میں تحریر کیا ہے کہ مہاجرین کو واپس نہ بھیجنے کی صورت میں کئی افغان شہریوں کو ترغیب ملے گی کہ وہ اپنا ملک چھوڑ کر یورپ کا رخ کر سکتے ہیں۔

ان چھ ممالک میں جرمنی، آسٹریا، ڈینمارک، بیلجئم، ہالینڈ اور یونان شامل ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق اس سال اب تک 1200 افغان شہریوں کو یورپی ممالک سے واپس ان کے ملک بھیج دیا گیا ہے، ان میں سے 1000 لوگ اپنی مرضی سے واپس گئے، جبکہ 200 کو زبردستی واپس بھیجا گیا۔

گزشتہ ماہ افغان حکومت نے یورپی ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ افغان مہاجرین کو زبردستی واپس بھیجنا بند کردے، کیوںکہ وہ بیک وقت طالبان سے لڑائی اور واپس آنے والے افراد کی دیکھ بھال نہیں کرسکتے۔

اس ماہ یورپ کی انسانی حقوق کی عدالت نے آسٹریا سے کہا تھا کہ اگست کے آخر تک افغان مہاجرین کو جبری ان کے ملک واپس نہ بھیجے کیونکہ ایسا کرنے سے ان افراد کو زبردست خطرات کا سامنا پڑ سکتا ہے۔

یورپی ممالک کو یہ خدشہ ہے کہ مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد میں یورپ آمد سے ایک نیا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ یورپی ممالک اس وقت ترکی کے ساتھ کئی برسوں پر محیط ایک نیا معاہدہ طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ ترکی کی حکومت اپنی سرزمین کے راستے مہاجرین کو یورپ آنے سے روکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG