رسائی کے لنکس

logo-print

پناہ گزینوں سے متعلق یورپی رہنما مجوزہ منصوبے پر متفق


یورپی یونین کے رہنما پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے بارے میں اس مجوزہ منصوبے پر ترکی کے وزیراعظم کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔

یورپی یونین کے رہنماؤں نے پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے بارے میں متفقہ موقف اپنانے پر اتفاق کیا ہے جس کے بارے میں ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کو جمعہ کو آگاہ کیا جائے گا۔

مجوزہ معاہدے کے مطابق ترکی کے راستے یونان پہنچنے والے تمام پناہ گزینوں کو واپس ترکی بھیجا جائے گا، جس کے عوض یورپی یونین ترکی کو مالی اعانت فراہم کرنے کے علاوہ بعض دیگر رعائیتوں کی پیش کش بھی کر سکتی ہے۔

جن میں ترکی کو یورپی یونین میں شامل کرنے کے عمل کو تیز کرنے کے علاوہ ترک شہریوں کو بغیر ویزے کے یورپی ممالک میں داخلے کی اجازت کی تجاویز شامل ہیں۔

تاہم تاحال یہ واضح نہیں کہ یورپی رہنماؤں کے اس مجوزہ منصوبے کے بارے میں ترکی کا ردعمل کیا ہو گا۔

یورپی یونین کے رہنما پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے بارے میں اس مجوزہ منصوبے پر ترکی کے وزیراعظم کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق جرمن چانسلر آنگیلا مرخیل نے کہا کہ اس بارے میں ترکی سے ہونے والی بات چیت آسان نہیں ہو گی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے پناہ گزینوں سے متعلق اس مجوزہ منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

برسلز میں یورپی یونین کے رہنماؤں کے اجلاس کے موقع پر یورپی یونین کے صدر دفتر کے باہر انسانی حقوق کی ایک موقر تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے ایک بڑی اسکرین نصب کی، جس پر تحریر تھا کہ ’’پناہ گزینوں کی تجارت نا کرو، معاہدہ بند کرو‘‘۔

حتیٰ کہ یورپی یونین کے وہ رہنما جنہوں نے اس منصوبے پر دستخط کیے اُن کا بھی کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں مکمل طور پر خوش نہیں ہیں۔

لیتھوینیا کی صدر ڈالیا گریبیسکیٹی نے کہا کہ مجوزہ منصوبہ بین الاقوامی قوانین کے معیار کے بالکل کنارے پر ہے اور اگر ترکی اسے قبول بھی کرتا ہے تو اس پر عمل درآمد مشکل ہو گا۔

بیلجیئم کے وزیراعظم چارلس مچل نے ترکی پر الزام لگایا کہ وہ اس معاملے پر ’بلیک میل‘ کر رہا ہے۔

واضح رہے گزشتہ سال سے اب تک 10 لاکھ پناہ گزین غیر قانونی طور پر یورپی ممالک میں داخل ہوئے، اُن میں سے بڑی تعداد ترکی کے راستے یونان پہنچی جہاں سے پناہ گزینوں نے دیگر ممالک کا رخ کیا۔

پناہ گزینوں کا معاملہ یورپی ممالک کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ یورپی ممالک چاہتے ہیں کہ ترکی اُن تارکین وطن کو واپس اپنے ملک آنے دے جو کہ مہاجرین کا درجہ حاصل کرنے کے اہل نہیں ہیں۔

ترکی میں پہلے ہی لگ بھگ 30 لاکھ پناہ گزین موجود ہیں۔

تارکین وطن سے متعلق معاملے کا ایک درد ناک پہلو یہ بھی تھا کہ پناہ گزینوں میں بہت سے خطرناک سفر کے دوران سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ پناہ گزینوں کے اسی بحران کی وجہ سے تارکین وطن کی آمد روکنے کے لیے مقدونیہ نے اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں جس کی وجہ سے لگ بھگ 14 ہزار پناہ گزین یونان میں پھنسے ہوئے ہیں اور اُنھیں سردی و ناکافی سہولتوں کے باعث کئی طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔

XS
SM
MD
LG