رسائی کے لنکس

logo-print

'سیاسی ماحول کی وجہ سے 2018ء کے انتخابی عمل پر منفی اثر پڑا'


مائیک گاہلر نے کہا کہ 2013ء کے انتخابات سے قبل میڈیا اور صحافیوں کو آزادیٔ اظہار کے حوالے سے اتنے دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا جتنا انہیں 2018ء کے انتخابات میں کرنا پڑا۔

پاکستان میں 2018ء کے عام انتخابات کے جائزے کے لیے آنے والے یورپی یونین کے مبصر مشن نے کہا ہے کہ پاکستان میں انتخابات سے متعلق قوانین میں مثبت تبدیلیوں اور ایک شفاف اور مضبوط الیکشن کمیشن کے باوجود ان کے خیال میں ملک میں عام انتخابات سے پہلے کے سیاسی ماحول، آزادیٔ اظہار پر پابندیوں اور انتخابی مہم کے دوران یکساں مواقع کی کمی کی وجہ سے 2018ء کے انتخابی عمل پر منفی اثر پڑا۔

یہ بات یورپی یونین کے مبصر مشن کے سربراہ مائیکل گاہلر نے جمعے کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں پاکستان کے انتخابات سے متعلق اپنے مشاہدے پر مشتمل ابتدائی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہی۔

مائیک گاہلر نے کہا کہ 2013ء کے انتخابات سے قبل میڈیا اور صحافیوں کو آزادیٔ اظہار کے حوالے سے اتنے دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا جتنا انہیں 2018ء کے انتخابات میں کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے 2013ء کے انتخابات کے دوران صورتِ حال بہتر تھی۔

یورپی یونین کے مبصر مشن کے سربراہ نے گزشتہ سالوں کے دوران پاکستان الیکشن کمیشن کی کارکردگی کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابات کی شفافیت اور جواب دہی کے عمل کو بہتر کرنے کے لیے کئی اقدمات کیے گئے جن میں خواتین اور اقلیتوں کی انتخابی عمل میں شمولیت کی لیے کیے گئے انتظامی اور قانونی اقدامات بھی شامل ہیں۔

مائیک گاہلر نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہونے والی مشاورت کی وجہ سے الیکشن کمیشن پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔

البتہ یورپی یونین مبصر مشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ انتخابات سے قتل سیاسی اجتماعات اور سیاسی رہنماؤں، امیدواروں اور انتخابات سے متعلق حکام پر ہونے والے حملوں کی وجہ سے انتخابی مہم متاثر ہوئی۔

ان کے بقول جن لوگوں سے ان کی بات ہوئی، انہوں نے بتایا کہ بدعنوانی، توہینِ عدالت اور دیگر مقدمات کی وجہ سے سابق حکمران جماعت کو کمزر کرنے کی کوشش کی گئی۔

مائیک گاہلر نے مزید کہا کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں الیکشن کمیشن کے کام میں بہتری آئی ہے اور ملک کی اقلیتوں کو انتخابی عمل میں شامل کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ "اس کے باوجود احمدی برداری کے افراد کا بدستور الگ انتخابی فہرستوں میں بطور ووٹر اندارج کیا جاتا ہے جو ان کے بقول آئین کے تحت دیے گئے مساوی حقوق کی خلاف ہے۔"

مائیک گاہلر نے کہا کہ 25 جولائی کو یورپی یونین کے انتخابی مبصر مشن کے 120 مبصرین نے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں 582 پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹوں کی پولنگ، ان کی گنتی اور نتائج کو جمع کرنے کے عمل کا مشاہدہ کیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ووٹنگ کا عمل شفاف اور مربوط انداز میں ہوا لیکن ووٹوں کی گنتی کے حوالے سے بعض مسائل نظر آئے۔

یورپی یونین کے انتخابی مبصر مشن کے سربراہ نے کہا کہ تمام پولنگ اسٹیشنوں کے اندر اور باہر سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے باوجود پولنگ کا عمل پریزائڈنگ افسران کی نگرانی میں عمل میں آیا۔

انتخابات میں بعض کالعدم شدت پسند تنطیموں سے منسلک عناصر کے حصہ لینے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں گاہلر نے کہا کہ گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں ایسے افراد کو 2018ء میں انتخاب لڑنے کی اجازت دی گئی لیکن ان کے بقول، "اس بات کا فیصلہ کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے آیا کوئی ایسا فرد انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے یا نہیں جس کا تعلق کسی ایسی تنظیم سے ہو جو تشدد کی کارروائیوں اور منافرت پھیلانے میں ملوث رہی ہو۔"

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی میں اس حوالے سے ایک بحث ہونی چاہیے کہ ملک میں انتہا پسندی کو مزید فروغ نہ ملے۔

یورپی یونین کے مبصر مشن کی رپورٹ پر پاکستان الیکشن کمیشن کی طرف سے تاحال کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ البتہ الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ 2018ء کے انتخابات کو صاف اور شفاف انداز میں منعقد کیا گیا۔ کمیشن نے بعض سیاسی جماعتوں کی طرف سے انتخابی نتائج کے حوالے سے اٹھائے گئے اعتراضات بھی مسترد کردیے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG