رسائی کے لنکس

logo-print

یورپی یونین کا بریگزٹ پر دوبارہ بات چیت سے انکار


برطانیہ کی وزیرِ اعظم تھریسا مے بریگزٹ پر ہونے والی بحث کے دوران پارلیمان سے خطاب کر رہی ہیں۔

یورپی رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ کے ساتھ یورپی یونین سے اس کی علیحدگی کے معاہدے پر دوبارہ مذاکرات نہیں ہوں گے۔

برطانیہ کی پارلیمان نے منگل کو حکمران جماعت کی پیش کردہ ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں پارلیمان نے وزیرِ اعظم تھریسا مے کو یورپی یونین کے ساتھ بریگزٹ معاہدے کی بعض شرائط پر دوبارہ بات چیت کا کہا ہے۔

لیکن یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کے ایک ترجمان نے بریگزٹ معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کے امکان کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

برطانوی پارلیمان میں قرارداد کی منظوری کے فوری بعد جاری ایک بیان میں ترجمان نے کہا ہے کہ یورپی یونین اور برطانوی وزیرِ اعظم نے طویل محنت کے بعد ایک معاہدے پر اتفاق کیا تھا جو بدستور برطانیہ کی یورپی یونین سے باضابطہ علیحدگی کا واحد اور بہترین راستہ ہے۔

تھریسا مے کی حکومت اور یورپی قیادت کے درمیان 18 ماہ کے مذاکرات کے بعد طے پانے والا بریگزٹ معاہدہ برطانوی پارلیمان نے رواں ماہ مسترد کر دیا تھا۔

پارلیمان کی جانب سے معاہدے پر عدم اعتماد کے بعد سے وزیرِ اعظم مے کی حکومت معاہدے میں بعض تبدیلیاں کر کے پارلیمان کی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے لیکن یورپی رہنما معاہدے میں کسی تبدیلی کا امکان مسترد کر چکے ہیں۔

اس جاری تنازع کی وجہ سے کسی معاہدے کے بغیر برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کا خدشہ ہر روز بڑھتا جا رہا ہے۔

عالمی رہنما اور ادارے خبردار کر چکے ہیں کہ بغیر کسی معاہدے کے ہونے والے بریگزٹ کے نہ صرف برطانیہ بلکہ یورپ اور پوری دنیا کی معیشت پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

برطانوی پارلیمان بریگزٹ کی جن شرائط پر دوبارہ بات چیت چاہتی ہے ان میں سرِفہرست برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد یورپی یونین کے رکن آئرلینڈ اور برطانیہ کے حصے شمالی آئرلینڈ کے درمیان سرحد کے انتظام کا معاملہ ہے۔

برطانوی عوام اور پارلیمان کی خواہش ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد بھی شمالی آئرلینڈ اور آئرلینڈ کے درمیان سرحد اسی طرح آمد و رفت اور تجارت کے لیے کھلی رہے جیسی کہ وہ اس وقت کھلی ہے۔

بریگزٹ پر یورپی یونین اور وزیرِ اعظم تھریسا مے کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں 'بیک اسٹاپ' کے عنوان سے ایک عبوری شرط رکھی گئی تھی جس کے تحت برطانیہ یورپی یونین سے علیحدگی کے باوجود بھی بدستور یورپی یونین کی کسٹم یونین کا حصہ رہے گا۔

ایسا ہونے کی صورت میں آئرلینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے درمیان اشیا کے آزادانہ تجارت ممکن ہو سکے گی۔

لیکن برطانیہ میں بریگزٹ کے حامی اس عبوری انتظام کو مسترد کر چکے ہیں۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ کسٹم یونین میں شامل رہنے کی وجہ سے برطانیہ پر یورپی یونین کے قوانین بدستور نافذ رہیں گے جن کی وجہ سے بریگزٹ کی مہم چلائی گئی تھی۔

یورپی یونین کے قوانین کے تحت برطانیہ 29 مارچ کو یونین سے علیحدہ ہو جائے گا اور یورپی رہنما کہہ چکے ہیں کہ برطانوی حکومت کے ساتھ اب بریگزٹ پر مزید کوئی بات نہیں ہو گی۔

صورتِ حال کے پیشِ نظر برطانیہ کے بعض سیاسی حلقے بریگزٹ کو مزید ملتوی کرنے یا اس معاملے پر ایک اور ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG