رسائی کے لنکس

برطانوی انتخابات کے نتائج پر یورپی یونین میں تشویش


یورپی پارلیمنٹ کی طرف سے نامزد بریگزٹ کے لیے نمائندہ خصوصی اور بیلجئم کے سابق وزیرِاعظم گائے ورہوفسٹیڈ

یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ میں معلق پارلیمان کے وجود میں آنے سے برطانیہ کے یورپی اتحاد سے علیحدگی کے لیے ہونے والے طے شدہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوسکتے ہیں۔

برطانیہ میں عام انتخابات کے غیر متوقع نتائج اور کسی بھی جماعت کے اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی پر یورپی رہنماؤں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ میں معلق پارلیمان کے وجود میں آنے سے برطانیہ کے یورپی اتحاد سے علیحدگی کے لیے ہونے والے طے شدہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوسکتے ہیں۔

یورپی یونین نے برطانیہ کے ساتھ 'بریگزٹ' (برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح) مذاکرات کے لیے 19 جون کی تاریخ مقرر کی تھی۔

لیکن غیر متوقع انتخابی نتائج کے بعد یونین کے کئی اعلیٰ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اب مقررہ تاریخ پر مذاکرات کا آغاز مشکل ہوگا۔

'بریگزٹ' کے لیے یورپی یونین کے نامزد اعلیٰ مذاکرات کار مشل برنیئر نے عندیہ دیا ہے کہ اتحاد کے 27 ارکان مذاکرات کی تاریخ آگے بڑھاسکتے ہیں۔

برنیئر نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ مذاکرات اسی وقت شروع ہونے چاہئیں جب برطانیہ تیار ہو۔ ان کےبقول 'بریگزٹ' کا ٹائم ٹیبل اور یورپی یونین کا موقف واضح ہے اور اس وقت ساری توجہ برطانیہ کے انخلا سے متعلق ایک بہتر معاہدے کے حصول پر مرکوز ہونی چاہیے۔

مشل برنیئر نے برطانیہ کے ساتھ 'بریگزٹ' مذاکرات کے آغاز کے لیے 19 جون کی تاریخ مقرر کی تھی اور ان کا ہدف تھا کہ موسمِ خزاں تک ابتدائی امور پر اور اکتوبر 2018ء تک عبوری معاہدے پر اتفاق کرلیا جائے گا۔

برطانوی وزیرِاعظم تھریسا مے نے رواں سال 29 مارچ کو باضابطہ طور پر یورپی یونین کو برطانیہ کی علیحدگی سے متعلق آگاہ کیا تھا۔

یونین کے قانون کے تحت برطانیہ اس نوٹس کے ٹھیک دو سال بعد یعنی مارچ 2019ء میں یونین سے الگ ہوجائے گا۔

برطانوی حکومت اور خود یورپی یونین بھی اس تاریخ سے قبل برطانیہ کی علیحدگی سے متعلق ایک باضابطہ معاہدے کے خواہش مند ہیں تاکہ 'بریگزٹ' سے پیدا ہونے والے مسائل اور تنازعات اتفاقِ رائے سے طے کیے جاسکیں۔


برطانوی وزیرِاعظم تھریسا مے نے رواں سال اپریل میں قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد ان کے بقول 'بریگزٹ' مذاکرات کے لیے عوام سے نیا مینڈیٹ اور پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کرنا تھا۔

برطانوی وزیرِاعظم کا موقف تھا کہ نئے اور بھاری مینڈیٹ کےساتھ وہ یورپی یونین سے اپنی شرائط منوانے کی بہتر پوزیشن میں ہوں گی۔

لیکن اندازوں کے برعکس وزیرِاعظم کی یہ کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی ہے اور ان کی جماعت کنزرویٹو پارٹی پارلیمان میں سادہ اکثریت سے بھی محروم ہوگئی ہے جو پہلے اسے حاصل تھی۔

انتخابات میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی حزبِ اختلاف کی جماعت لبرل پارٹی کے قائد جیرمی کوربن نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ برطانیہ کے مذاکرات طے شدہ پروگرام کے مطابق ہونے چاہئیں۔

جیرمی کوربن نے کہا کہ ان کی جماعت برطانیہ کو معاشی طور پر بہتر دیکھنا چاہتی ہے اور اس کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پاجائے ۔

یورپی یونین کے بجٹ کمشنر گینتھر اوٹنگر نے کہا ہے کہ یورپی یونین کی خواہش تھی کہ برطانیہ میں ایک مضبوط حکومت قائم ہو جو اعتماد کے ساتھ مذاکرات اور کسی دباؤ کے بغیر معاہدہ کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ امکان ہے کہ اب تھریسا مے ایک کمزور وزیرِاعظم ہوں گی جس سے مذاکرات کے مستقبل پر سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔

یورپی پارلیمان میں ارکان کے سب سے بڑے اتحاد کے سربراہ اور جرمن چانسلر آنگیلا مرخیل کے قریبی ساتھی مینفریڈ ویبر نے کہا ہے کہ تھریسا مے نے سب کچھ تلپٹ کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین متحد ہے لیکن برطانیہ بری طرح تقسیم کا شکار ہے۔ ان کے بقول وزیرِاعظم تھریسا مے استحکام لانا چاہتی تھیں لیکن اس کے برعکس انہوں نے اپنے ملک میں سب کچھ چوپٹ کردیا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کی طرف سے نامزد بریگزٹ کے لیے نمائندہ خصوصی اور بیلجئم کے سابق وزیرِاعظم گائے ورہوفسٹیڈ نے بھی تھریسا مے کے قبل از وقت انتخابات کے فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مذاکراتی عمل پیچیدہ ہوگیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG