رسائی کے لنکس

لندن میں مقیم پاکستانی نژاد فوزیہ چودھری سماجی خدمت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ ان کے خیال میں لیبر پارٹی تاریخی طور پر اقلیتوں کے لیے اچھی ثابت ہوئی ہے جب کہ کنزویٹو پارٹی کی سوچ مختلف دکھائی دیتی ہے

یورپی یونین سے علیحدگی کے فیصلے اور حالیہ دہشت گرد حملوں کے تناظر میں سب کی نظریں جمعرات کو برطانیہ میں ہونے والے عام انتخابات پر ہیں، کیونکہ ان کے نتائج نہ صرف برطانیہ بلکہ بین الاقوامی منظر نامے پر اس کی سمت واضح کرنے میں کردار ادا کریں گے۔

مانچسٹر اور پھر لندن میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد حکمران جماعت، ’کنزرویٹو پارٹی‘ کی طرف سے ملکی سلامتی سے متعلق کڑے فیصلے کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے، جب کہ وزیر اعظم تھریسا مے اور دیگر راہنما ملک میں آباد مختلف قومیتوں سے متعلق سخت بیانات بھی دے چکے ہیں۔

لیکن، ان کی حریف جماعت ’لیبر پارٹی‘ جمہوریت کو دہشت کے ہاتھوں یرغمال بننے سے روکنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے سب کی شمولیت سے جمہوریت کے فروغ پر زور دے رہی ہے۔

پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد برطانیہ میں آباد ہے اور انتخابات میں اس بار مختلف جماعتوں نے 30 سے زائد ایسے امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے جن کا آبائی وطن پاکستان ہے۔

بین الاقوامی امور پر نظر رکھنے والے پاکستانی تجزیہ کاروں کی رائے یہ ہے کہ لیبر اور کنزرویٹو کے درمیان سخت مقابلہ ہو سکتا ہے۔ لیکن، جس طرح یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے ہونے والے ریفرنڈم میں بھی بہت سے تجزیے اور اندازے غلط ثابت ہوئے تھے عام انتخابات میں بھی، ان کے بقول، کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا۔

سینیئر تجزیہ کار، ڈاکٹر ہما بقائی کہتی ہیں کہ حالیہ ہفتوں میں برطانیہ میں ہونے والے دہشت گرد حملوں سے اقتصادی امور کی بجائے سلامتی کے خدشات و معاملات پر زیادہ توجہ مرکوز دکھائی دیتی ہے اور اس کا فائدہ کنزرویٹو پارٹی کو ہو سکتا ہے۔

انتخابی مہم میں مصروف تھریسا مے
انتخابی مہم میں مصروف تھریسا مے

بقول اُن کے، "کنزرویٹوز کو سکیورٹی کے معاملات کے تناظر میں بڑھاوا ملا ہے، کیونکہ وہ (کنزرویٹو راہنما) جو باتیں کہتے ہیں وہ لوگوں کو صحیح لگیں گی، اجنبیوں سے متعلق خوف بھی بڑھے گا، لوگ امیگریشن کے خلاف جائیں گے۔"

تاہم، پشاور یونیورسٹی کے شعبہٴ پولیٹیکل سائنس کے سربراہ اور معروف تجزیہ کار ڈاکٹر اے زیڈ ہلالی لیبر پارٹی کے لیے حالات ساز گار دیکھ رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ "وہ لبرلز ہیں، (برطانیہ میں آباد) مختلف برادریوں کا خیال رکھتے ہیں ان کے مفادات کے مطابق بھی چلتے ہیں۔۔۔مجھے لگتا ہے کہ لوگ یہ دیکھیں گے کہ لیبر پارٹی یورپی کمیونٹی میں برطانیہ کے مفادات کو بہتر طریقے سے ٹھوس انداز سے پیش کر سکے گی۔"

لیکن، ڈاکٹر ہما بقائی کے نزدیک لیبر پارٹی کے لیے صورتحال مشکل ہو سکتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ "لیبر پارٹی کے امیدوار اچھی باتیں کرتے ہیں۔ لیکن ان کی شخصیت کرشماتی ہے۔ لیکن، پھر بھی یہ جماعت پہلے کی نسبت تھوڑا تھوڑا آگے بڑھی ہے؛ لیکن میرا نہیں خیال کہ وہ 326 کا میجک نمبر حاصل کر پائے گی۔"

لیبر پارٹی کے راہنما جیمز کوربن
لیبر پارٹی کے راہنما جیمز کوربن

حکومت بنانے کے لیے 650 نشستوں والے برطانوی دارالعوام میں کسی بھی جماعت کو کم سے کم 326 نشستوں پر کامیابی یا حمایت حاصل کرنا ہوتی ہے۔

لندن میں مقیم پاکستانی نژاد فوزیہ چودھری سماجی خدمت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ ان کے خیال میں لیبر پارٹی تاریخی طور پر اقلیتوں کے لیے اچھی ثابت ہوئی ہے جب کہ کنزویٹو پارٹی کی سوچ مختلف دکھائی دیتی ہے۔

اُن کے الفاظ میں، "جیمز کوربن (لیبرپارٹی کے راہنما) جو کہہ رہے ہیں اور جو منشور انھوں نے دیا ہے وہ پاکستانیوں سمیت دیگر قومیتوں کے لیے اچھا ہے۔ ٹوریز نے تو پہلے ہی ایسے بیانات دینا شروع کر دیے ہیں ان (کنزرویٹو) کی دیگر قومیتوں اور مذاہب سے متعلق آگاہی اتنی زیادہ نہیں ہے کہ وہ ان کی صحیح ترجمانی کر سکیں۔"

تجزیہ کار ڈاکٹر ہما بقائی کہتی ہیں کہ دیگر قومیتوں سے متعلق خوف کو بڑھاوا دینے کا رجحان مناسب نہیں کیونکہ جو لوگ اپنے آبائی وطن کو ترک کر کے برطانیہ میں آباد ہو گئے تو پھر ان کی تربیت، رویہ اور سوچ وہیں کے حالات و واقعات پر مبنی ہوتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG