رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان، افغان مذاکراتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کریں: یورپی یونین


کابل میں یورپی یونین کے سفیروں نے افغان مذاکراتی ٹیم کے قیام کا خیر مقدم کیا ہے۔

یورپی یونین نے طالبان پر زور دیا ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ افغان دھڑوں کی تشکیل کردہ متفقہ مذاکراتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کریں۔

کابل میں موجود یورپی یونین کے سفیروں کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ متفقہ مذاکراتی ٹیم پر اتفاق افغانستان کے اندرونی سیاسی تنازع کے حل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

امریکہ کے بعد یورپی یونین نے بھی افغان رہنماؤں کی طرف سے بین الافغان مذاکرات کے لیے اتفاق رائے سے تشکیل پانے والی مذاکراتی ٹیم کی تشکیل کا خیر مقدم کیا ہے۔

یورپی یونین کے سفیروں کی طرف سے جاری بیان میں مذاکراتی ٹیم کی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام افغان سیاسی رہنماؤں کو امن عمل میں خواتین، نوجوانوں اور افغان تنازع کے متاثرین کی شمولیت کو موثر بنانا ہو گا۔

یورپی یونین نے طالبان سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ دوحہ معاہدے کے مطابق امن مذاکرات کے لیے حقیقی عزم کا اظہار کریں۔ طالبان سے پرتشدد کارروائیاں ترک کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر پیش رفت ضروری ہے جب کہ بین الافغان مذاکرات کو زیر التوا رکھنے کا اب کوئی جواز نہیں ہے۔

طالبان کی طرف سے یورپی یونین کے بیان پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

البتہ، طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اس سے قبل جاری ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ طالبان افغان حکومت کی طرف سے اعلان کردہ مذاکراتی ٹیم سے بات چیت نہیں کریں گے۔ طالبان کا عذر تھا کہ ٹیم کے انتخاب میں تمام افغان دھڑوں کو نمائندگی نہیں دی گئی۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی کے ترجمان صادق صدیق نے یورپی یونین کے یبان کو ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس معاہدے پر طالبان نے دستخط کیے ہیں ان کی پاسداری کی جائے تو مذاکرات ملتوی کرنے کا کوئی عذر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان گزشتہ ماہ طے پانے والے امن معاہدے کے تحت بین الافغان مذاکرات کا آغاز رواں ماہ ہونا تھا۔ لیکن صدر اشرف غنی اور ان کے حریف عبداللہ عبداللہ کے درمیان پیدا ہونے والے سیاسی تنازع اور طالبان قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع نہ ہونے کے باعث بات چیت کا عمل اب تک شروع نہیں ہو سکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG