رسائی کے لنکس

یورپی کونسل کے صدر نے کہا ہے کہ شام کی دگرگوں صورت حال اور لیبیا کی کشیدہ حالت ایجنڈا پر سرفہرست ہوگی، اور ساتھ ہی پناہ کے متلاشی مہاجرین کی مدد کرنے والے ممالک، مثلاً یونان، ترکی، اردن اور لبنان پر گفتگو متوقع ہے

یورپی کونسل کے صدر نے جمعرات کو کہا ہے کہ ’بڑے پیمانے پر مہاجرین کی آمد‘ کے ’امکانی منظرنامے‘ کو مدِ نظر رکھ کر، یورپ کو معاملے سے نبردآزما ہونے کی تیاری کرنی چاہیئے۔

ڈونالڈ ٹَسک برسلز میں یورپی یونین کے سربراہ اجلاس کی میزبانی کر رہے ہیں، جہاں 28 ارکان پر مشتمل اس گروپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے خطے اور افریقی ملکوں میں اس ’انتہائی پیچیدہ صورت حال‘ پر گفت و شنید متوقع ہے۔

ٹَسک نے کہا کہ شام کی دگرگوں صورت حال اور لیبیا کی کشیدہ حالت ایجنڈا پر سرفہرست ہوگی، اور ساتھ ہی پناہ کے متلاشی مہاجرین کی مدد کرنے والے ملک، مثلاً یونان، ترکی، اردن اور لبنان پر گفتگو ایجنڈا کا حصہ ہوگی۔

بقول اُن کے، ’ہم خطے کی انتہائی گنجلک صورت ِحال پر بات کریں گے۔ ترکی کے ساتھ ہماری بات چیت چل رہی ہے۔ لیبیا میں کشیدگی جاری ہے جب کہ شام کی صورت حال بگڑ رہی ہے۔ اِن تمام عوامل کے باعث، عین ممکن ہے کہ مہاجرین کا ایک نیا ریلہ آئے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم تمام قسم کے منظرنامے کو پیش نظر رکھیں۔ ہمیں اپنے آپ سے یہ پوچھنا چاہیئے کہ جو کوششیں ہم کر رہے ہیں آیا وہ مہاجرین کی نئی لہر سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔‘

ترکی نے شام سے وارد ہونے والے تقریباً 20 لاکھ افراد کو پناہ دی ہے، جو جنگ و جدل سے بچ کر بیرون ملک بھاگ نکلے تھے۔

اس سے قبل، جرمن چانسلر آنگلہ مرخیل نے کہا تھا کہ مہاجرین کے بحران سے نبرد آزما ہونے کے لیے یورپ کو ترکی کےساتھ تعاون کرنا چاہیئے۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد مغربی یورپ کو درپیش پناہ کی تلاش کی یہ سب سے بڑی لہر ہے۔
ادھر جرمن پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں جمعرات کو اپنے خطاب میں، اُنھوں نے کہا کہ مغرب کی جانب رُخ کرنے والے اِن مہاجرین کے لیے ترکی نقل و حمل کا اہم راستہ ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ یورپ اور ترکی کو اُن مقامات کی صورت حال کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے جہاں سے یہ ہجرت پر مجبور ہوتے ہیں، جس کے لیے مل کر کام کیا جانا چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG