رسائی کے لنکس

logo-print

یونان: کثیر تعداد میں پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ


عالمی ادارے کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے کہا ہے کہ اس سال تین جولائی تک سمندر کے ذریعے یونان آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد 77000 سے زائد ہے۔ یہ افراد اپنے آبائی ملکوں میں مسلح تنازعات اور غربت سے بچنے کے لیے ترک وطن پر مجبور ہوئے

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے جمعے کے روز بتایا کہ یونان کو پناہ گزینوں کی ’غیرمعمولی‘ ہنگامی صورتحال درپیش ہے، ایسے میں جب یونان کے جزیروں پر پناہ گزینوں کی آمد بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ تناسب، 1000 افراد یومیہ ہے۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ اس سال تین جولائی تک سمندر کے ذریعے یونان آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد 77000 سے زائد ہے۔ یہ افراد اپنے آبائی ملکوں میں مسلح تنازعات اور غربت سے بچنے کے لیے ترک وطن پر مجبور ہوئے۔ اِن میں سے تقریباً 60 فی صد پناہ گزینوں کا تعلق شام سے ہے، جب کہ دیگر افغانستان، عراق، اریٹریااور صومالیہ سے ہیں۔

عالمی ادارے کے ترجمان، ولیم اسپنڈلر نے جنیوا میں اپنے خطاب میں کہا ہے کہ یونان کی معاشی صورت حال دگرگوں ہے، ساتھ ہی نئے پناہ گزینوں کی بڑی تعداد میں جاری آمد۔۔ ایسے حالات میں چھوٹے جزیروں والی برادریوں پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے، جہاں پہلے ہی بنیادی ڈھانچے اور خدمات کی کمی ہے۔ ایسے میں بڑھتی ہوئی انسانی ضروریات کا مناسب بندوبست کرنا مشکل معاملہ ہے۔

’ہیلینک کوسٹ گارڈ‘ کے مطابق، پچھلے 12 گھنٹوں کے دوراں، جمعے کے روز یونان اور ترکی کے بحری امدادی کارکنوں نے 19 افراد کی جان بچائی۔ یونانی ساحلی محافظوں نے آٹھ کی مدد کی، جب کہ ترک ساحلی محافظوں نے11 افراد کی جان بچائی، پانی سے پانچ لاشیں برآمد کی گئیں، جب کہ 16 افراد اب بھی لاپتا ہیں، جن کےڈوب جانے کا خدشہ ہے۔

اسپنڈلر نے کہا کہ ’یونان یورپی یونین کا حصہ ہے اور یہ سب کچھ یورپ میں ہو رہا ہے‘۔
اُنھوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ یونان کی صورت حال کا مداوا کرنے کے لیے یورپی یونین آگے بڑھ کر متحرک کردار ادا کرے۔

مغرب اور شمال یورپی ملکوں میں بہتر زندگی کی تلاش کی جستجو میں، پناہ گزیں یونان کے مشکل بحری سفر کا رخ کرتے ہیں۔
اِن میں سے زیادہ تر افراد بلقان کے ملکوں سے وارد ہوتے ہیں، جہاں 2015ء کے پہلے چھ ماہ کے دوران، پچھلے سال اسی عرصے کے مقابلے میں، سیاسی پناہ کے حصول کے لیے درخواست دہندگان کی تعداد میں نو گنا اضافہ ہوچکا ہے۔

XS
SM
MD
LG