رسائی کے لنکس

logo-print

مصطفیٰ کمال کے قافلے میں سابق سینیٹر محمد علی بروہی کا اضافہ


محمد علی بروہی کے ساتھ ساتھ ایک درجن سے زائد دیگر افراد نے بھی پی ایس پی میں شمولیت اختیار کی۔ ان افراد کا تعلق بھی ماضی میں ایم کیو ایم سے رہا ہے۔

مصطفیٰ کمال کی جماعت، پاک سرزمین پارٹی کے قافلے میں پیر کو کچھ اور لوگوں کا اضافہ ہوا۔ ان میں سرفہرست ہیں ایم کیو ایم کے سابق سینیٹر محمد علی بروہی جنہوں نے پیر کی سہ پہر مصطفیٰ کمال کے ساتھ ان کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کے دوران پی ایس پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔

محمد علی بروہی کے ساتھ ساتھ ایک درجن سے زائد دیگر افراد نے بھی پی ایس پی میں شمولیت اختیار کی۔ ان افراد کا تعلق بھی ماضی میں ایم کیو ایم سے رہا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے ان افراد کا پارٹی میں خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم لوگوں کے دلوں کو جوڑنے اور محبتیں بانٹنے کے لئے آئے ہیں کسی کو کسی کا ایجنٹ اور ٹارگٹ کلر بنانے نہیں‘‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں ایسے معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں جہاں برداشت ہو، رنگ و نسل اور مذہب کی بنیاد پر نفرتیں نہ ہوں۔ ہم نے اپنی نوجوان نسل کو قلم اور تعلیم سے آراستہ کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 24 اپریل کا جلسہ پاکستان کا ’ٹرننگ پوائنٹ‘ ہوگا۔ وطن پرستی کے قافلے کا سفر تیزی سے جاری ہے۔ ہماری آنے والی نسلیں سندھ میں امن دیکھنا چاہتی ہیں۔

اس موقع پر محمد علی بروہی نے کہا کہ ہم ایم کیو ایم میں اس وجہ سے آئے تھے کہ سندھی اور اردو بولنے والے ایک ہو کر ملک اور صوبے کی ترقی کے لئے کام کریں گے۔ لیکن، ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ اس لئے ہم نے ایم کیو ایم کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

سندھ کے مختلف شہروں میں مزاحمت
پی ایس پی کے رہنما مصطفیٰ کمال کراچی کے ساتھ سندھ کے دوسرے شہروں میں بھی پارٹی پالیسی کو عام کرنے کے خواہشمند ہیں اور اس مقصد کے لئے گزشتہ دنوں انہوں نے حیدرآباد اور میرپورخاص کا دورہ کیا اور دفاتر کی بنیاد رکھی۔ تاہم، دونوں شہروں میں انہیں مشکلات درپیش آئیں۔

میرپورخاص کے دورے کے موقع پر مخالف جماعت کی خواتین نے احتجاج کیا، جبکہ نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر پتھراؤ کیا جس سے گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے۔ اس دوران، پی ایس پی کے ایک اور رہنما انیس ایڈووکیٹ کے چہرے پر معمولی زخم بھی آئے، جبکہ بیچ بچاوٴ کے دوران مصطفیٰ کمال کی قمیص کے بٹن بھی ٹوٹ گئے۔

میرپورخاص کی طرح ٹنڈو الہ یار میں بھی پاک سرزمین پارٹی کی ریلی کے موقع پر شہر میں مختلف مقامات پر ایم کیو ایم اور پاک سر زمین پارٹی کے کارکنوں میں تصادم ہوا۔ دونوں جماعتوں کے کارکن گتھم گھتا ہوگئے اور ایک دوسرے کیخلاف مخالفانہ نعرے لگائے۔

ادھر حیدرآباد آمد کے موقع پر بھی انہیں اپنے سیاسی مخالفین کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

XS
SM
MD
LG