رسائی کے لنکس

جاپان: انتخابات میں وزیرِاعظم شنزو آبے کی کامیابی یقینی


انتخابی عملے کا ایک رکن ووٹوں کی گنتی شروع ہونے کا انتظار کر رہا ہے

اتوار کو پولنگ ایسے وقت ہوئی ہے جب ایک طاقت ور سمندری طوفان جاپان کے ساحلوں سے ٹکرانے والا ہے۔

جاپان میں قبل از وقت انتخابات کے لیے اتوار کو ہونے والی پولنگ کا عمل مکمل ہوگیا ہے اور ایگزٹ پولز کے مطابق وزیرِاعظم شنزو آبے کی جماعت دوبارہ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے قریب ہے۔

جاپانی ٹی وی چینل 'ٹی بی ایس' کے مطابق وزیرِاعظم کی جماعت 'لبرل ڈیموکریٹک پارٹی' اور اس کی اتحادی جماعتوں کی پارلیمان کے 465 رکنی ایوانِ زیریں میں 311 نشستوں پر کامیابی یقینی ہے جس کے نتیجے میں حکمران اتحاد کی ایوان میں دو تہائی اکثریت برقرار رہے گی۔

شنزو آبے پہلی بار دسمبر 2012ء میں اقتدار میں آئے تھے اور اگر ان کی جماعت اتوار کو ہونے والی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئی تو ان کے لیے آئندہ سال ستمبر میں ایک بار پھر تین سال کے لیے اپنی پارٹی کا سربراہ منتخب ہونے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

شنزو آبے نے گزشتہ ماہ پارلیمان کے ایوانِ زیریں کو تحلیل کرکے قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد ملک کے سوشل سکیورٹی نظام میں اصلاحات اور جاپان کے آئین میں مجوزہ ترامیم کے لیے عوام سے نیامینڈیٹ حاصل کرنا تھا۔

شنزو آبے شمالی کوریا کی جانب سے دی جانے والی مسلسل دھمکیوں کے باعث جاپان کی دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافے اور افواج کو مزید موثر بنانے کے حامی ہیں جس کے لیے انہیں آئین میں ترمیم کرنا ہوگی۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکی ایما پر بننے والے جاپان کے آئین کی شق 9 کے تحت جاپان مسلح افواج نہیں رکھ سکتا۔

تاہم جاپانی حکومتیں اس شق کی یہ تشریح کرتی رہی ہیں کہ جاپان کو صرف اپنے دفاع کے لیے فوج رکھنے کا اختیار ہے لیکن یہ فوج بیرونِ ملک کسی کارروائی میں شریک نہیں ہوگی۔

لیکن شنزو آبے آئین کی اس شق کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ شمالی کوریا کی مسلسل جارحیت اور دھمکیوں کے بعد جاپان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی فوج کو مستقبل کے خطرات سے نبٹنے کے لیے تیار کرے۔

دارالحکومت ٹوکیو میں لگے انتخابی امیدواروں کے پوسٹرز
دارالحکومت ٹوکیو میں لگے انتخابی امیدواروں کے پوسٹرز

اتوار کو پولنگ ایسے وقت ہوئی ہے جب ایک طاقت ور سمندری طوفان جاپان کے ساحلوں سے ٹکرانے والا ہے۔

طوفان کے باعث جاپان کے بیشتر علاقوں میں شدید بارشیں ہورہی ہیں اور طوفانی ہوائیں چل رہی ہیں جب کہ سیکڑوں پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔

'لین' نامی اس طوفان کو 'کیٹگری 4' کا طوفان قرار دیا گیا ہے جو انتہائی شدید طوفان سے صرف ایک درجے کم ہے۔

جاپان کے محکمۂ موسمیات کے مطابق طوفان پیر کو علی الصباح دارالحکومت ٹوکیو کے نزدیک ہونشو کے جزیرے سے ٹکرائے گا۔

طوفان کے باعث جاپان کے وسطی اور مشرقی علاقوں میں 162 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جب کہ حکام نے ملک کے مختلف ساحلی علاقوں میں 70 ہزار گھروں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔

بعض مبصرین نے طوفان کے باعث ووٹنگ ٹرن آؤٹ میں کمی کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG