رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت سے اضافی پانی کی آمد، دریائے ستلج میں طغیانی


این ڈی ایم اے نے پنجاب اور گلگت بلتستان میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر رکھا ہے۔ — فائل فوٹو

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بھارت نے مون سون میں ہونے والی بارش کے پانی کو اپنے ڈیموں میں ذخیرہ کرنے کے بعد اضافی پانی پاکستان کی طرف بہنے والے دریاؤں میں چھوڑ دیا ہے۔

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے پاکستان کے صوبۂ پنجاب اور گلگت بلتستان میں ممکنہ سیلاب کے پیشِ نظر ہائی الرٹ جاری کر رکھا ہے۔

ترجمان این ڈی ایم اے بریگیڈئیر مختار احمد کہتے ہیں کہ بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑے جانے کے باعث این ڈی ایم اے نے وارننگ جاری کی ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بریگیڈیئر مختار احمد نے کہا کہ سیلابی ریلے کی آمد سے ضلع قصور سب سے پہلے متاثر ہوتا ہے اور وہاں پر امدادی کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں۔

بھارت کی طرف سے چھوڑے گئے پانی سے متعلق بریگیڈیئر مختار احمد نے بتایا کہ جو ریلا بھارت کی جانب سے پاکستان کی طرف آ رہا ہے اس کا اثر گنڈا سنگھ کی سرحد پر ہوگا جہاں سے دریائے ستلج کا پانی پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر 27 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے جب کہ 20 اور 21 اگست کی درمیانی رات یہاں سے زیادہ سے زیادہ پانی گزرنے کا خدشہ ہے جو ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ کیوسک تک ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں ہر سال مون سون سیزن میں سیلاب کے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں۔
پاکستان میں ہر سال مون سون سیزن میں سیلاب کے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں۔

دوسری جانب ڈپٹی انڈس واٹر کمشنر شیراز میمن کہتے ہیں کہ بھارت کی طرف سے اضافی پانی نہیں چھوڑا جا رہا۔ بھارت باکھڑا ڈیم سے زیادہ سے زیادہ 12 سے 15 ہزار کیوسک پانی 24 گھنٹوں کے لیے چھوڑ سکتا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے شیراز میمن نے کہا کہ پاکستان کی اپنی کیچمنٹ سے دریائے سندھ میں چھوڑا جانے والا پانی تقریباً ڈھائی لاکھ کیوسک ہے۔

شیراز میمن نے دعوٰی کیا کہ بھارت کے باکھڑا ڈیم میں پانی محفوظ کرنے کی صلاحیت 42 سے 45 ہزار ایکڑ فٹ ہے جب کہ پاکستان کے منگلا ڈیم کی صلاحیت 90 لاکھ ایکڑ فٹ ہے۔

پاکستانی ڈپٹی انڈس واٹر کمشنر نے مزید بتایا کہ بھارت نے پاکستان کو اضافی پانی چھوڑے جانے پر رواں ماہ 19 اگست 2019 تک کوئی اعداد و شمار نہیں بتائے تھے البتہ 20 اگست 2019 کو پاکستان اور بھارت کے انڈس واٹر کمشنرز کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا ہے۔

شیراز میمن بتاتے ہیں کہ بھارت نے پاکستان کو اضافی پانی چھوڑے جانے کی تفصیلات سے آگاہ کیا ہے جب کہ بھارت 23 اگست تک دو لاکھ کیوسک تک پانی دریائے ستلج میں چھوڑ سکتا ہے۔

شیراز میمن کا مزید کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی تناؤ انڈس واٹر معاہدے پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بگلہار ڈیم کا معاملہ پاکستان عالمی عدالت میں لے کر گیا جو پاکستان کی غلطی تھی۔ انڈس واٹر کمیشن میں موجود کچھ افسران نے اس معاملے پر اپنی کارکردگی دکھانے کی کوشش کی حالانکہ یہ معاملہ غیر جانب دار ماہرین کا تھا۔

ان کے بقول اس معاملے پر ہم نے تین سے چار سال تک بھارت کو الجھائے رکھا اب بھارت پاکستان کو تنگ کر رہا ہے۔

ڈپٹی انڈس واٹر کمشنر کہتے ہیں کہ اگر بھارت معمول سے زیادہ پانی دریاؤں میں چھوڑتا ہے تو سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت پاکستان کو پیشگی اطلاع دینے کا پابند ہے۔

شیراز میمن نے مزید بتایا کہ معاہدے میں ‘غیر معمولی’ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اگر بھارت دریاؤں میں ‘غیر معمولی’ پانی چھوڑتا ہے تو معاہدے کے تحت بھارت پاکستان کو متنبہ کرنے کا پابند ہے۔

شیراز میمن کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان 1989 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت بھارت یکم جولائی سے 10 اکتوبر تک پانی چھوڑنے سے متعلق پاکستان کو آگاہ کرنے کا پابند ہے چاہے سیلابی صورتِ حال ہو یا نہ ہو۔

شیراز میمن کا کہنا ہے کہ پاکستانی دریاؤں میں تجاوزات قائم ہیں۔ لوگوں نے دریاؤں کے اندر گاؤں کے گاؤں بسا لیے ہیں۔ عام طور پر پاکستانی دریاؤں میں پانی آتا نہیں ہے جس کے باعث تجاوزات قائم ہو جاتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے دریائے ستلج اور دریائے راوی میں 20 سے 25 ہزار کیوسک فٹ پانی چھوڑا گیا ہے جو نچلے درجے کے سیلاب سے بھی کم ہے لہذٰا خطرے کی کوئی بات نہیں ہے۔

ان کے بقول نچلے درجے کے سیلاب کی حد 30 ہزار کیوسک ہوتی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاہدے کو سندھ طاس معاہدہ کہا جاتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاہدے کو سندھ طاس معاہدہ کہا جاتا ہے۔

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے دریائے ستلج میں درمیانے اور اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ جاری کیا ہے۔

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق 20 اور 21 اگست سے گنڈا سنگھ میں پانی کا بہاؤ 80 ہزار سے 90 ہزار کیوسک تک ہونے کا امکان ہے جو ڈیڑھ لاکھ کیوسک تک جا سکتا ہے۔ جب کہ 23 اگست سے ہیڈ سلیمانکی میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا امکان ہے۔

فلڈ کنٹرول روم کے مطابق اس وقت چنیوٹ میں دریائے چناب کے مقام پر 64 ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے۔ جب کہ ہیڈ سلیمانکی ورکس پر پانی کی آمد 24492 کیوسک اور اخراج 12335 کیوسک ہے۔

سندھ طاس معاہدے کے مطابق دریائے ستلج اور دریائے راوی کے پانیوں پر بھارت کا حق ہے۔

پنجاب حکومت کے اقدامات

بھارت کی جانب سے دریائے راوی اور دریائے ستلج میں اضافی پانی چھوڑے جانے پر صوبۂ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار نے بھی ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کیا ہے۔ اجلاس میں صوبۂ پنجاب کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے علاوہ سیکریٹری آب پاشی، صوبائی وزراء، این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے ہدایت کی کہ دریائے ستلج میں اضافی پانی چھوڑے جانے کے پیشِ نظر صوبۂ پنجاب کے اضلاع قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، وہاڑی، لودھراں، بہاولپور اور بہاولنگر میں تمام حفاظتی اقدامات اور ضروری تیاریاں مکمل کرنے کے علاوہ دریاؤں کے بیڈ سے لوگوں کے انخلا کو یقینی بنایا جائے۔

بھارت کی جانب سے دریائے چناب پر تعمیر کیا جانے والا بگلہار ڈیم۔
بھارت کی جانب سے دریائے چناب پر تعمیر کیا جانے والا بگلہار ڈیم۔

عثمان بزدار نے ممکنہ سیلابی صورت حال میں امدادی کیمپ لگانے اور لوگوں تک ضروری اشیاء بر وقت پہنچانے کی ہدایت بھی جاری کیں۔ حکومتِ پنجاب نے صوبہ بھر میں 81 امدادی کیمپ قائم کیے ہیں۔

ترجمان وزیرِ اعلٰی پنجاب شہباز گِل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں اب تک اضافی پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے ضلع قصور کے 18 میں سے تین دیہات متاثر ہوئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG