رسائی کے لنکس

logo-print

مشرقی یوکرین میں باغیوں کے خلاف کارروائی


روس کے حامی باغیوں نے یوکرین کے دو ہیلی کاپٹر مار گرائے جس سے دو پائلٹ ہلاک ہو گئے۔

یوکرین کے فوجیوں نے جمعہ کی صبح سلوویانسک شہر کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے کارروائی شروع کی۔ ملک کے اس مشرقی شہر میں باغیوں کے خلاف کارروائی کے لیے ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے گئے۔

یوکرین کے وزیر داخلہ ارسن ایواکوف نے کہا کہ باغیوں کی جانب سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علیحدگی پسندوں نے یوکرین کے دو ہیلی کاپٹر مار گرائے جس سے دو پائلٹ ہلاک ہو گئے۔

انٹرنیٹ پر سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر ایواکوف کا کہنا تھا کہ یوکرین باغیوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ یرغمالیوں کو رہا کر دیں، ہتھیار ڈال دیں اور سرکاری عمارتوں کا قبضہ چھوڑ کر شہری انتظامیہ کو کام کرنے دیں۔

کیئف کا الزام ہے کہ ماسکو ان باغیوں کی مالی معاونت کر رہا ہے جنہوں نے یوکرین کے مشرقی شہروں میں سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ تاہم روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

ادھر ماسو میں صدر ولادیمر پوٹن کے ترجمان دمتری پسکوف کا کہنا تھا کہ یوکرین مں بحران کو ختم کرنے کے لیے ہونے والے امن معاہدے کو جمعہ کو یوکرین کی طرف سے کی گئی کارروائیوں سے شدید نقصان پہنچا ہے۔

اس سے قبل جمعہ کی صبح یوکرین کے مشرقی علاقے میں طاقتور دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔

روس نواز باغیوں کو کہنا ہے کہ یہ دھماکے سلوویانسک کے بعض حصوں میں یوکرین کی سکیورٹی فورسز کے حملوں کا حصہ ہیں۔

مغربی ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ اس علاقے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر نہایت نیچی پرواز کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے ایک فوٹوگرافر کا کہنا تھا کہ اس نے شہر کے مضافات میں اس ہیلی کاپٹر سے فائرنگ ہوتے دیکھی۔

حملے کی ان خبروں سے چند گھنٹے قبل روس کے صدر ولادیمر پوٹن نے مطالبہ کیا تھا کہ یوکرین روس کی سرحد کے قریب گڑبڑ والے اپنے علاقوں سے فوجیں واپس بلا لے۔

پوٹن نے یہ بات جرمنی کی چانسلر آنگیلا مرخیل سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کی۔ مرخیل جمعہ کو واشنگٹن میں صدر براک اوباما سے ملاقات کر رہی ہیں۔

جمعرات کو یوکرین کے قائم مقام صدر الیگزینڈر ٹرچینوف نے فوج میں جبری بھرتی کے ایک فرمان پر دستخط کیے۔ ان بھرتیوں کو مقصد مشرقی علاقوں میں ان روس نواز علیحدگی پسندوں سے نمٹنا ہے جنہوں نے ایک درجن شہروں میں سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

صدارتی فرمان میں 18 سے 25 سال کے نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کیا جارہا ہے۔
XS
SM
MD
LG