رسائی کے لنکس

logo-print

چین: کیمیکل پلانٹ میں دھماکے سے 47 ہلاک، 600 زخمی


دھماکے کے بعد فیکٹری سے دھویں کے بادل اٹھ رہے ہیں۔

چین میں کھاد بنانے والے ایک کارخانے میں دھماکے سے کم از کم 47 افراد ہلاک اور 600 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دھماکہ جمعرات کو مشرقی صوبے جیانگ سو کے چین جیاگانگ صنعتی مرکز میں واقع فیکٹری میں ہوا۔

دھماکے سے فیکٹری میں لگنے والی آگ نے کئی نزدیکی کارخانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا جس پر کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد قابو پایا جاسکا۔

حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں لگ بھگ 640 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں 16 مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ زخمیوں میں سے 32 کی حالت تشویش ناک ہے۔

دھماکے سے متاثرہ فیکٹری کے نزدیک واقع ایک کنڈر گارٹن میں موجود بچے بھی زخمی ہوئے۔

مقامی حکام کے مطابق دھماکے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ فیکٹری میں 30 سے زائد کیمیائی مرکبات تیار کیے جاتے تھے جن میں سے بعض بہت زیادہ آتش گیر نوعیت کے تھے۔

چینی اخبار 'چائنا ڈیلی' نے کہا ہے کہ متاثرہ فیکٹری پر اس سے قبل بھی حفاظتی اقدامات اور معیارات نظر انداز کرنے پر جرمانہ ہوچکا تھا۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق دھماکے کے بعد اٹلی کے دورے پر موجود چین کے صدر ژی جن پنگ نے حکام کو زخمیوں کا پوری طرح خیال رکھنے اور "سماجی استحکام برقرار رکھنے" کی ہدایت کی ہے۔

ٹی وی کے مطابق صدر نے کہا ہے کہ انتظامیہ کو اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے اور انہیں دھماکے کی وجوہات کا فوری تعین کرنا چاہیے۔

چینی صدر نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے کے دوران اس نوعیت کے کئی واقعات ہوچکے ہیں جن سےمقامی حکومتوں اور تمام متعلقہ محکموں کو پوری طرح سبق سیکھ لینا چاہیے۔

چین میں اس نوعیت کے بڑے صنعتی حادثات دیگر صنعتی ممالک کی نسبت بہت عام ہیں جن پر عوام میں خاصا غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ہونے والی بے تحاشا صنعتی ترقی کے دوران، بقول ان کے، عالمی معیارات اور حفاظتی اقدامات کا اس طرح سے خیال نہیں رکھا گیا جیسا کہ رکھا جانا چاہیے تھا اور اس لیے صنعتی حادثات اور ان میں ہونے والےجانی نقصان کی شرح بہت زیادہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG