رسائی کے لنکس

دبئی ایکسپو کا آغاز: ایک ہزار ایکڑ تپتے صحرا پر سہولتوں کا ایک نیا جہاں آباد


ایک ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلا جو قطعہ زمین چند برس قبل تک ویران صحرا تھا آج وہاں ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں دنیا کی ہر جدید سہولت دستیاب کر دی گئی ہے۔

یہ تذکرہ ہے دبئی ایکسپو کا، جس کے لیے اس عرصے میں نیا میٹرو اسٹیشن بنایا گیا، لاکھوں ڈالر مالیت کے پویلین تیار کیے گئے اور مختلف خدمات کے لیے یہاں روبوٹ تک فراہم کر دیے گئے۔

دبئی ایکسپو 2020 کو گزشتہ سال منعقد ہونا تھا لیکن کرونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث سفری اور اجتماع پر عائد پابندیوں کی وجہ سے اسے مؤخر کیا گیا اور بالآخر جمعرات کو مشرقِ وسطی میں اپنی نوعیت کے اس پہلے عالمی میلے کا افتتاح ہوگیا۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے چھ ماہ تک جاری رہنے والے اس عالمی میلے میں تقریباً ڈھائی کروڑ کاروباری نمائندے اور سیاح شریک ہوں گے۔

کرونا وبا کے بعد بین الاقوامی سطح پر ہونے والی اس نمائش کو بعض ممالک وبا سے متاثرہ معیشت کی بحالی کے لیے سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے موقعے کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔

جمعے کو نمائش کے باقاعدہ آغاز کے بعد اس میں کم و بیش 200 ممالک شریک ہوں گے۔

اٹلی کے شہر میلان میں 2015 میں ہونے والی ایسی ہی ایک نمائش کی پیروی کرتے ہوئے اس ایکسپو کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ دبئی میں ہونے والی اس ایکسپو کی تیاری اور انتظامات پر 6.8 ارب ڈالرز کی لاگت آئی ہے۔

ایکسپو میں کیا کیا ہے؟

نمائش میں شریک ممالک کے الگ الگ پویلین بنائے گئے ہیں اور ہر ملک نے اپنے پویلین کو سجانے اور نمایاں کرنے کے لیے خاص اہتمام کیا ہے۔ اس کے علاوہ ہر پویلین میں نمائش میں شریک ہونے والی متعلقہ ملک کی کمپنیاں اور کاروباری نمائندے موجود ہیں۔

امریکہ کے پویلین میں ’اسپیس ایکس‘ کے ’فیلن نائن راک‘ راکٹ کی نقل رکھی گئی ہے۔ اٹلی کے پویلین میں مائیکل اینجلو کے تراشے مجسمے ’ڈیوڈ‘ کی 17 فٹ لمبی تھری ڈی نقل سجائی گئی ہے۔

ایکسپو میں افریقی کھانوں کا ایک پورا ہال ہے۔ مصری ممی بھی یہاں رکھی گئی ہے۔ ایکسپو کے احاطے میں دنیا بھر سے آنے والے فن کاروں کے کانسرسٹس کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ ایکسپو میں بنایا گیا گنبد توجہ کا مرکز ہے جس پر دنیا کی سب سے بڑی پروجیکشن اسکرین لگائی گئی ہے۔اس مرکزی گنبد کی تعمیر میں 13 کلو میٹر سے زیادہ اسٹیل استعمال کیا گیا ہے۔

نمائش اور یادگاریں

خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق دبئی ایکسپو سے قبل ہونے والی دنیا کی دیگر عالمی نمائشوں کے لیے بنائی گئی یادگاروں پر آج بھی لاکھوں سیاح جاتے ہیں۔

ان میں سب سے بڑی مثال ایفل ٹاور ہے جو 1889 میں فرانس میں ہونے والے عالمی میلے کے داخلی راستے پر بنایا گیا تھا اور آج بھی لاکھوں لوگ اسے دیکھنے جاتے ہیں۔

امریکہ میں سیاٹل میں 1962 کے عالمی میلے کے لیے تیار کی گئی اسپیس نیڈل بھی اس کی ایک مثال ہے۔

عالمی سطح پر ایسے میلوں اور نمائشوں کا انعقاد زیادہ تر یورپ میں اور امریکہ میں ہوتا رہا۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس نوعیت کی کوئی عالمی نمائش منعقد کی جا رہی ہے۔

ایکسپو میں داخلے کے لیے کرونا کا منفی پی سی آر ٹیسٹ یا کرونا ویکسی نیشن کا ثبوت فراہم کرنا ضروری ہے۔

’رائٹرز‘ کے مطابق ایکسپو کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے اپنے اقدامات سے متعلق پُراعتماد ہیں۔

ایکسپو اور ایجادات

لندن میں 1851 میں اس نوعیت کا پہلا عالمی تجارتی میلہ منعقد ہوا تھا۔ ’اے پی‘ کے مطابق ایسی عالمی میلے اقوام کے درمیان خیالات کے تبادلے، ایجادات کو متعارف کرانے، مقامی ثقافت کے فروغ اور تجارتی تعلقات استوار کے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے سے جاری عالمی نمائش کی اس روایت نے دنیا کو کئی اہم ترین ایجادات سے بھی متعارف کرایا ہے۔

امریکہ میں 1876 میں ہونے والے پہلے عالمی میلے میں الیگزینڈر گرام بیل کا ٹیلی فون، ٹائپ رائٹر اور ہینز کیچ اپ نمائش متعارف کرائے گئے تھے۔

امریکہ کی ریاست پنسلوینیا کے شہر فلاڈلفیا میں ہونے والے اس عالمی تجارتی میلے میں ایک کروڑ افراد نے شرکت کی تھی جب کہ اس وقت امریکہ کی کل آبادی چار کروڑ تھی۔ اس نمائش کی عمارات آج بھی قومی یادگار کے طور پر موجود ہیں۔

اس کے علاوہ سلائی مشین، ایلیویٹر، کاربونیٹڈ سوڈا اور فیرس وہیل اور ٹیلی وژن بھی بھی ایسے ہی عالمی میلوں میں متعارف کرائے گئے تھے۔

شرکا کی متوقع تعداد

دبئی ایکسپو کی انتظامیہ کا بھی کہنا ہے کہ وہ اس عالمی نمائش کے ذریعے ’ذہنوں کو مربوط کرکے مستقبل کی تشکیل‘ چاہتے ہیں۔

اس کے علاوہ نمائش میں موسمیاتی تغیرات، تنازعات اور اقتصادی ترقی کے موضوعات پر بھی بات ہو گی۔

’رائٹرز‘ کے مطابق خیال کیا جا رہا ہے کے کرونا کے بعد لوگوں میں سفر کرنے سے متعلق جو ہچکچاہٹ پیدا ہوئی ہے اس کا اثر دبئی ایکسپو پر بھی ہو سکتا ہے۔

لیکن منتظمین کو توقع ہے کہ دبئی ایکسپو میں2015 میلان ایکسپو سے بھی زیادہ لوگ شریک ہوں گے۔ ان کا اندازہ ہے ایکسپو میں آنے کی تعداد دبئی کی آبادی سے دگنی رہے گی۔

اس خبر میں شامل معلومات خبر رساں اداروں ’رائٹرز‘ اور ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ سے لی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG