رسائی کے لنکس

فیس ماسک بنے خواتین کا ذریعہ روزگار


چکوال میں قائم خواتین کے ایک مرکز میں فیس ماسک تیار کیے جا رہے ہیں۔

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لئے؟ یہ شعر محبت میں ناکام، گھر کے اندر بند رہنے والے شاعر قسم کے لوگوں کے لئے ہمیشہ حسب حال رہا ہے۔ لیکن کرونا کے بعد اب یہ شعر سب ہی کے حسب حال ہو گیا ہے، کیوں کہ اب نئے کپڑے پہننے کے مواقع اور حالات نہیں رہے۔

اور اب ان حالات میں اس شعر کو کچھ یوں استعمال کیا جا سکتا ہےکہ

"نئے ماسک خریدنے جائیں کہاں؟

اور فیس ماسک پہن کر جائیں کہاں؟ "

کیوں کہ مارکیٹس میں فیس ماسک کی شدید قلت ہے اور ملنے ملانے کے مواقع تو بالکل ہی ختم۔

تاہم چکوال میں فیس ماسک کا یہ مسئلہ حل کیا ہے، وہاں قائم ایک سکلز ڈیولپمنٹ سینٹر کی ہنر مند خواتین نے، جن کے لیے لاک ڈاؤن کے دوران فیس ماسک روزگار کا ایک نیا ذریعہ بھی بن رہے ہیں۔

خواتین کے تربیتی مرکز میں ایک خاتون ماسک تیار کر رہی ہے۔
خواتین کے تربیتی مرکز میں ایک خاتون ماسک تیار کر رہی ہے۔

کرونا لاک ڈاؤن سے قبل یہ غریب مگر ہنر مند خواتین اس مرکز میں جا کر اسکول یونیفارمز، اسکول بیگز، ہینڈ بیگز اور لوگوں کے لباس تیار کر کے اپنا روزگار حاصل کرتی تھیں۔ لیکن اب اسکول بند، سماجی میل ملاپ بند، تقریبات بند، تو کہاں کا یونیفارم، کہاں کے اسکول بیگز، کہاں کے ہینڈ بیگز اور کہاں کے نئے کپڑے؟

لوگ نئے کپڑے پہن کر جائیں کہاں؟ کیوں کہ اب انہیں جہاں بھی جانا ہے نئے فیس ماسک پہن کر جانا ہے۔

تو چکوال والوں کے لیے یہ مسئلہ ہر دو صورت میں حل ہوا۔ اب وہ فیس ماسک خریدنے وہاں کے کسی بھی اسٹور پر جا سکتے ہیں اور نئے نکور فیس ماسک پہن کر محفوظ طریقے سے گھروں سے باہر اپنے ضروری کام انجام دینے کے محفوظ مواقع بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

چکوال کا یہ سینٹر اور ایسے ہی بہت سے مراکز امریکہ کے ایک فلاحی ادارے ہیلپنگ ہینڈ یو ایس اے کی مالی معاونت سے پاکستان کے بہت سے شہروں اور قصبوں میں چل رہے ہیں، جہاں خواتین کو مختلف ہنر سکھا کر اپنا روزگار خود کمانے کے قابل بنایا جاتا ہے۔

وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں چکوال کے اس سینٹر کی انچارج رابعہ تبسم نے بتایا کہ ان کا مرکز اب تک مارکیٹ میں 16000 ماسک فروخت کر چکا ہے جب کہ مزید دس ہزار تیار ہو رہے ہیں۔

فیس ماسک مارکیٹ میں جانے کے لیے تیار ہیں
فیس ماسک مارکیٹ میں جانے کے لیے تیار ہیں

انہوں نے بتایا کہ اس کے لیے انہوں نے اپنے سینٹر کی کارکن خواتین کو فیس ماسک سینے کی تربیت دی، سلائی کی مشینیں ان کے گھروں میں شفٹ کیں اور وہی میٹیریل جو اسکول بیگز یا ہینڈ بیگز کی تیاری کے سلسلے میں ان کے پاس پہلے سے موجود تھا، اور کچھ نیا سامان خرید کر ان کے گھروں میں پہنچایا اور اس وقت یہ خواتین گھروں میں بیٹھ کر روزانہ کی بنیاد پر معیاری فیس ماسک تیار کر رہی ہیں۔ یہ ماسک اسپتالوں میں طبی عملے کو مفت اور مارکیٹ میں انتہائی سستے داموں فراہم کئے جا رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں ہیلپنگ ہینڈ یو ایس اے کے پروگرام ڈائریکٹر الیاس چوہدری نے بتایا کہ اس وقت چکوال کا یہ چھوٹا سا سینٹر پاکستان کے دوسرے شہروں کے لئے بھی فیس ماسک تیار کر رہا ہے۔ جب کہ پنجاب کے اس سینٹر کے ساتھ ساتھ، خیبر پختونخواہ میں نوشہرہ اور سندھ کے شہر میرپور خاص اور ٹنڈو الہ یار کے مراکز کی خواتین نے گھروں میں بیٹھ کر دس ہزار ہائجین بیگز تیار کئے ہیں، جنہیں کرونا سے نمٹنے کے لئے استعمال ہونے والی اہم چیزیں رکھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جب کہ ٹنڈو الہ یار کے مراکز کی خواتین ورکرز راشن کی پیکنگ کے لئے تین ہزار بیگز تیار کر رہی ہیں۔

ہینڈ سینی ٹائزر اور لیکویڈ جل تیار کیا جا رہا ہے
ہینڈ سینی ٹائزر اور لیکویڈ جل تیار کیا جا رہا ہے

انہوں نے مزید بتایا کہ ہیلپنگ ہینڈ یو ایس اے کے تحت دنیا بھر میں خواتین کے لئے ایسے ہی اسکلز ڈیولپمنٹ سنٹرز کرونا کی اس وبا کے دوران فیس ماسک، ہائجین کٹ بیگز اور سینی ٹائزرز تیار کر رہے ہیں جن میں اردن میں خواتین کا ایک سینٹر قابل ذکر ہے جہاں خواتین ہینڈ سینی ٹائزر اور لیکویڈ جیل بنا رہی ہیں، جنہیں ضرورت مندوں کو مفت تقسیم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہیلپنگ سینٹر یو ایس اے کے یہ مراکز ان خواتین کو، جنہیں لاک ڈاؤن کے دوران بیروزگاری کا خطرہ درپیش تھا، گھروں ہی میں روزگار کمانے اور لوگوں کو اس عالمگیر وبا سے بچانے میں ایک اہم کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG