رسائی کے لنکس

logo-print

فیس بک نے نفرت پھیلانے پر متعدد شخصیات پر پابندی لگا دی


سوشل میڈیا کی سب سے مشہور ویب سائٹ، فیس بک نے ’نیشن آف اسلام‘ کے لیڈر لوئیس فراخان، دائیں بازو کے مبینہ سازشی نظریات پھیلانے والے الیکس جونز اور کئی اور شخصیات پر ‘ہیٹ سپیچ’ کی بنیاد پر پابندی لگا دی ہے۔

فیس بک نے جمعرات کے روز کہا کہ ان افراد نے مبینہ طور پر ’’سوشل میڈیا ویب سائٹ کی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تشدد پھیلانے کی کوشش کی ہے‘‘۔

فیس بک کے ایک ترجمان نے کہا کہ ‘‘افراد اور ادارے جو نفرت پھیلاتے ہیں اور دوسرے گروہوں کو ان کے تشخص کی بنیاد پر معاشرے سے خارج کرنے کے مطالبات کرتے ہیں ان کی فیس بک پر کوئی جگہ نہیں ہے۔۔۔ چاہے ان کے کوئی بھی نظریات ہوں۔’’

ایسے افراد پر ’انسٹاگرام‘ پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

فیس بک نے ان افراد کی جانب سے کی گئی کسی خاص پوسٹ کا حوالہ نہیں دیا ہے۔

ایلکس جونز اپنی سازشی تھیوریاں پھیلانے کے لیے مشہور ہیں جیسے نو ستمبر 2011 کے واقعات کے پیچھے حکومت کا ہاتھ تھا یا 2012 میں امریکی ریاست کنیکٹی کٹ میں سینڈی ہوک میں فائرنگ کے واقعات میں ہونے والی قتل و غارت کے بارے میں کہا تھا کہ یہ سب جھوٹا واقعہ ہے۔

ایلکس جونز نے فیس بک کی جانب سے ان پر لگائی گئی پابندی کے جواب میں کہا گیا کہ انہیں بدنام کیا گیا ہے۔

ایک اور انتہائی بائیں بازو کے راہنما پاؤل جوزف پر نسل پرستی اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے الزامات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے فیس بک کے قوانین نہیں توڑے ہیں اور ان سے اتفاق کرنے والے لوگوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ ڈالیں کہ وہ ان کے لئے کوئی ایکشن لیں۔

قوم پرست بلیک امریکیوں کے گروپ ’نیشن آف اسلام‘ کے راہنما فاراخان پر یہودیوں کے خلاف نسل پرستانہ نفرت پھیلانے اور بلیک امریکی علیحدگی پسندی کے الزامات ہیں۔ انہوں نے فیس بک کے الزامات پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

فیس بک کی جانب سے انتہائی دائیں بازو کے دیگر راہنما جن پر پابندی لگائی گئی ہے میں پاؤل نیہلن، لارا لومر اور مائلو یانوپولوس شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG