رسائی کے لنکس

فیض آباد دھرنے کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کا سلسلہ جاری


تحریک لبیک پاکستان کا فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا۔ فائل فوٹو
تحریک لبیک پاکستان کا فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا۔ فائل فوٹو

پاکستان کی سپریم کورٹ کے فیض آباد دھرنے کے فیصلے پر نظرثانی اپیلیں دائر کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور اب حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس کیس میں نظر ثانی اپیل دائر کر دی ہے۔ تحریک انصاف اس کیس میں فریق نہیں تاہم فیض آباد دھرنا اور پی ٹی آئی دھرنے کے موازنے پر پی ٹی آئی نے عدالت کا رخ کیا ہے۔

فیض آباد دھرنا کیس میں حکومت کی اتحادی جماعتوں عوامی مسلم لیگ اور متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان کی خفیہ انٹیلی جینس ایجنسی (آئی ایس آئی)، الیکشن کمشن اور پاکستان اور انٹیلی جینس بیورو کے بعد اب پاکستان تحریک انصاف نے بھی نظرثانی درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کر دی ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی نظر ثانی درخواست میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف مس کنڈیکٹ الزام کو حذف کر دیا گیا ہے، جبکہ تحریک انصاف کے دھرنے کے خلاف دی گئی آبزرویشنز کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کو موقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ دی گئی آبزرویشنز کو حذف کیا جائے۔

ایم کیو ایم نے بھی اپنی درخواست میں عدالتی فیصلے کو آئین کی شقوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلے کے پیراگراف 23 اور 24 جو کہ 12 مئی کے دھرنے سے متعلق ہیں، صرف مفروضوں کی بنیاد پر ہیں۔

حساس ادارے آئی ایس آئی نے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر نظر ثانی اپیل سپریم کورٹ میں دائر کر دی ہے اور کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کی وجہ سے مسلح افواج کے مورال کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ جب کہ الیکشن کمشن کا کہنا ہے کہ ریکارڈ ثابت کرتا ہے کہ الیکشن کمشن نے آئین اور قانون کے مطابق مکمل عمل کیا۔ 16 اگست 2107 کو تحریک لبیک کو اپنے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کرنے کا نوٹس دیا گیا۔ تفصیلات فراہم نہ کرنے پر تحریک لبیک کو رجسٹریشن منسوخ کرنے کی وارننگ بھی دی گئی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں دی گئی آبزرویشنز الیکشن کمشن کی کارکردگی پر منفی اثرات ڈالیں گی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل بینچ نے 22 نومبر 2018 کو فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے رواں سال 6 فروری کو سنایا۔ فیصلے میں حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، خفیہ ایجنسیوں اور پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کریں۔

سپریم کورٹ کے بینچ نے تحریک لبیک پاکستان کے 2017ء میں دیئے گئے دھرنے کے دوران مسلم لیگ ن حکومت، پی ٹی آئی، الیکشن کمشن، انٹیلی جینس اداروں اور پیمرا پر کڑی تنقید کی۔

تحریک لبیک پاکستان نے 5 نومبر 2017 سے 26 نومبر 2017 تک فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا دیا تھا۔ اس دھرنے کا مقصد الیکشن بل 2017 کا ترمیمی فارم واپس کروانا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنا تھا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ اس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد مستعفی ہوں۔ حکومت کی جانب سے مظاہرین کے مطالبات ماننے اور وزیرقانون کے استعفے کے بعد 22 روزہ دھرنا اختتام کو پہنچا تھا۔

فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے میں وزارت دفاع کی رپورٹ کی بنیاد پر یہ کہا گیا کہ بعض سیاسی شخصیات نے بھی فیض آباد دھرنے کی حمایت کی جن میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور وفاقی وزیر شیخ رشید احمد، پاکستان مسلم لیگ ضیا کے اعجاز الحق، پیپلز پارٹی کے شیخ حمید اور حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کا علما ونگ بھی شامل تھے۔

معروف وکیل اظہر صدیق کہتے ہیں کہ نظرثانی کرنے والوں میں فیصلہ تحریر کرنے والا جج ضرور شامل ہو گا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ وزارت دفاع اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان حلف کی خلاف ورزی کرنے والے فوجی افسران کے خلاف کارروائی کریں اور حساس اداروں کی حدود طے کرنے کے لیے قانون سازی کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG