رسائی کے لنکس

غریبوں کے اکاؤنٹس میں اربوں روپے کون جمع کراتا ہے؟


جعلی کھاتوں کے معاملے سے زرداری صاحب کا تعلق نہ افواہ ہے، نہ بازار کی گپ ہے: ایاز امیر

کراچی میں ایک رکشے والے کے بینک اکاؤنٹ میں ساڑھے آٹھ ارب روپے کی ٹرانزیکشن کا انکشاف ہوا ہے۔ ایف بی آر نے رکشا ڈرائیور زور طلب خان کو ٹیکس نہ دینے اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا جواب دینے کے لیے طلب کیا ہے۔ ملزم بونیر میں آبائی گاؤں گیا ہوا ہے اور وہ اپنے کھاتے میں اتنی بڑی رقوم کی آمدورفت کا سن کر حیران پریشان ہے۔

زور طلب خان کوئی پہلا شخص نہیں جس کی لاعلمی میں اس کا جعلی اکاؤنٹ کھولا گیا اور کروڑوں اربوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی۔ اب تک سیکڑوں جعلی کھاتے اور بیسیوں ارب کی منی لانڈرنگ سامنے آچکی ہے۔

’دنیا نیوز‘ کے بزنس ایڈیٹر حارث ضمیر نے بتایا کہ ’’مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، اب تک تین بینکوں میں ساڑھے پانچ سو جعلی اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوچکی ہے، جن میں لگ بھگ سو ارب روپے کی رقم منتقل کی گئی۔ جن تین بینکوں میں یہ اکاؤنٹس کھولے گئے، وہ یونائیٹڈ بینک، سمٹ بینک اور سندھ بینک ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے سمٹ بینک اور سندھ بینک میں انضمام ہونے والا تھا۔ اگر وہ ہوجاتا تو یہ تمام اکاؤنٹس ایک بینک میں پہنچ جاتے اور سراغ لگانا مشکل ہوجاتا‘‘۔

حارث ضمیر نے کہا کہ ’’تمام اکاؤنٹس انتہائی غریب لوگوں کے شناختی کارڈ پر کھولے گئے۔ کوئی رکشے والا ہے، کوئی پنکچر لگانے والا، کوئی ٹھیلا لگانے والا۔ اب نیا قانون بنایا جا رہا ہے جس کے تحت تمام اکاؤنٹس کے لیے بایومیٹرک کو لازمی قرار دیا جارہا ہے۔ اس کے بعد جعلی اکاؤنٹ کھولنا ناممکن ہوجائے گا‘‘۔

جن بینکوں میں جعلی اکاؤنٹس کا سراغ ملا ہے، ان کے برانچ منیجر اور زونل انچارج پر تفتیشی حکام نے نظر رکھی ہوئی ہے اور ان سے پوچھ گچھ بھی کی ہے۔ انھیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ملک سے باہر جانے کی کوشش نہ کریں۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کھاتوں کے ذریعے پیسے کون کون سے ملکوں کو منتقل کیے گئے۔

جعلی کھاتوں کے مقدمے میں بار بار آصف زرداری کا نام لیا جارہا ہے اور ایف آئی اے حکام ان سے اس بارے میں تفتیش کرچکے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر اعلیٰ سندھ کے اینٹی کرپشن پر مشیر مرتضیٰ وہاب نے وائس آف امریکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’زرداری صاحب پر 1988ء سے الزامات لگائے جارہے ہیں۔ لیکن کبھی کچھ ثابت نہیں ہوتا اور ہر بار معزز عدالتیں انھیں باعزت بری کرتی ہیں۔ یہ تاثر غلط ہے کہ ان کھاتوں کا زرداری صاحب سے کوئی تعلق ہے۔ ایف آئی اے نے اس معاملے میں بلایا تو زرداری صاحب اور ان کی بہن فریال تالپر پیش ہوئیں اور سوالنامے کا جواب دے دیا۔ تحقیقات مکمل ہوگی تو پتا چل جائے گا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کا ان سے کوئی تعلق نہیں‘‘۔

مرتضیٰ وہاب نے سوال اٹھایا کہ ’’یہ تحقیقات تین سال پہلے شروع ہوئی تھیں۔ لیکن ایسا کیا ہوا کہ الیکشن سے بالکل پہلے اس کی ایف آئی آر درج کی گئی اور چالان عدالت میں جمع کرانا پڑا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پیپلز پارٹی کی قیادت انتخابی مہم نہ چلاسکے۔ اپنے ووٹر سے نہ مل پائے۔ ماضی میں بھی ایسی بہت کارروائیاں کی گئیں۔ لیکن زرداری صاحب کبھی دباؤ میں نہیں آئے۔ آئندہ بھی ایسی کوشش کامیاب نہیں ہوگی‘‘۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ آصف زرداری جب حکومت کے خلاف کوئی محاذ کھولنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے خلاف مقدمے کھل جاتے ہیں۔ لیکن سینئر تجزیہ کار ایاز امیر اس رائے سے متفق نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’جعلی کھاتوں کے معاملے سے آصف زرداری کا تعلق نہ افواہ ہے، نہ بازار کی گپ ہے۔ کئی اکاؤنٹس کا تعلق اومنی گروپ سے نکلا ہے جس سے زرداری صاحب کا تعلق بیان کیا جاتا ہے۔ ایف آئی اے نے اس بارے میں تحقیقات کی تو اسے ثبوت ملے ہیں۔ اومنی گروپ سندھ کی شوگر ملوں کے حسابات دیکھتا ہے جو براہ راست یا بالواسطہ زرداری صاحب کی ہیں‘‘۔

ایاز امیر نے کہا کہ ’’جسے اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے، اس کے لیے زرداری صاحب کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہیں کہ تانے بانے بن کر ان کے خلاف سازش کی جائے۔ یہ کیس سپریم کورٹ کے حکم پر چلایا جا رہا ہے جو بالکل آزادانہ جرات مندانہ فیصلے کر رہی ہے‘‘۔

XS
SM
MD
LG