رسائی کے لنکس

جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی جیل جانے سے بچا نہ سکا


امریکی ریاست نیویارک کے علاقے لانگ آئی لینڈ میں ایک شخص نے، جیسے قید کی سزا سنائی جا چکی تھی، جیل جانے سے بچنے کے لیے اپنی موت کا جعلی سرٹیفکیٹ بنوایا مگر ایک چھوٹی سی غلطی سے اس کی جعل سازی پکڑی گئی اور وہ سزا سے نہ بچ سکا۔

پراسیکیوٹرز نے بتایا ہے کہ ملزم کے وکیل کی جانب سے اپنے موکل کا جو جعلی سرٹیفکیٹ بھیجا گیا، اس میں مجرم کے نام کے ہجے درست نہیں تھے، جس پر وہ پکڑا گیا۔

اے پی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیویارک کے قصبے ہنٹنگٹن کے 25 سالہ شخص رابرٹ برگر کو ایک مبینہ جعل سازی میں چار سال جیل کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ پولیس نے اسے ایک ٹرک چرانے اور ایک چوری شدہ کار اپنے قبضے میں رکھنے کے جرم میں گرفتار کیا تھا۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ وہ جعل سازی کے ذریعے جیل جانے سے بچنا چاہتا تھا۔

ناسوا کاؤنٹی کی ڈسٹرکٹ اٹارنی میڈلین سنگاس نے بتایا کہ یہ میرے لیے کبھی بھی حیران کن نہیں رہا کہ کچھ مجرم اپنی سزا سے بچنے کے لیے اس طرح کے کام کرتے ہیں۔

کرونا وائرس کی وجہ سے منگل کے روز کیس کی سماعت ویڈیو لنک کے ذریعے ہوئی۔ اس مقدمے میں برگر نے اپنا جرم قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ برگر کو اپنے جاری مقدمے کے سلسلے میں جیل بھیجا جائے گا۔ عدالت نے اگلی سماعت 29 جولائی کے لیے مقرر کی ہے۔

برگر کی ضمانت کی اپیل دائر کرنے والے وکیل کا کہنا ہے کہ موت کا جعلی سرٹیفکیٹ اسے فراہم کیا گیا تھا اور اس کا اس واقعہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

گاڑی کی چوری سے متعلق جرم میں برگر کو پچھلے سال اکتوبر میں ایک سال کے لیے جیل جانا تھا، لیکن اس وقت اس کے وکیل کی جانب سے عدالت میں یہ درخواست دائر کی گئی تھی کہ برگر نے خودکشی کر لی ہے، جس کے ثبوت میں ایک جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ پیش کیا گیا تھا۔

پہلی نظر میں نیوجرسی ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کا تیار کردہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ بالکل اصلی لگتا ہے۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ غور سے جائزہ لینے سے معلوم ہوا کہ سرٹیفکٹ میں ایک لفظ کے ہجے غلط ہیں اور اس کے علاوہ ٹائپ فانٹ اور اس کا سائز بھی سرکاری سرٹیفکیٹ سے قدرے مختلف ہے، جس سے شبہات کو تقویت ملی۔

نیویارک کے ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ کے متعلقہ شعبے نے تصدیق کی کہ عدالت میں پیش کردہ سرٹیفکیٹ جعلی ہے۔

پولیس نے اسے فلاڈیلفیا کے ایک مضافاتی علاقے سے گرفتار کیا۔ وہ بیمار تھا۔ تاہم، زندہ تھا۔

فلاڈیلفیا میں بھی اس نے فراڈ کیا تھا۔ وہاں اس پر کیتھولک کالج کا نقلی شناختی کارڈ قانون نافذ کرنے والے ادارے کو پیش کرنے پر مقدمہ چلایا گیا، جس پر اسے جنوری میں ایک سال قید کی سزا ہوئی۔

ڈسٹرکٹ اٹارنی منڈولین سنگاس کا کہنا ہے کہ دھوکہ دہی اور جعل سازی کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ آپ آخرکار پکڑے جاتے ہیں۔ اس کیس میں بھی ڈسٹرکٹ اٹارنی کو جعلی دستاویز بھیجنا کوئی اچھی منصوبہ بندی نہیں تھی۔ ہم یہ یقینی بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ مجرم قانون سے بچ کر نہ نکل سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG