امریکہ کے خفیہ ادارے یو ایس سیکریٹ سروس نے امریکی شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ کرونا وائرس سے متعلق جعل سازی کے حوالے سے ہوشیار رہیں۔
یو ایس سیکریٹ سروس کے مطابق کوئی بھی بڑی خبر یا واقعہ کسی بھی گروہ یا شخص کے لیے بدنیتی پر مبنی ارادوں کا سبب بن سکتا ہے۔
سیکریٹ سروس کے جاری ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جرائم پیشہ افراد پہلے ہی کرونا وائرس سے پیدا ہونے والے خوف کی وجہ سے لوگوں کے جذبات سے کھیلنا شروع کر چکے ہیں۔
اس حوالے سے خفیہ ادارے کا کہنا ہے کہ ایسا ایک واقعہ حالیہ دنوں میں پیش آ چکا ہے جب ایک شخص کو صحت کے حوالے سے ایک ادارے کی ای-میل موصول ہوئی۔ جس میں کرونا وائرس سے متعلق اہم معلومات فراہم کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے دنیا بھر میں اقدامات
1/14چین کے صوبے سنکیانگ میں رضاکاروں نے اپنے طور پر رہائشی علاقوں میں وائرس سے بچاؤ کے لیے اسپرے کرنا شروع کر دیا ہے۔ سڑکوں اور گلی محلوں کے ساتھ گھروں میں بھی رضا کار اسپرے کرتے نظر آتے ہیں۔
مزیدShow less
2/14اٹلی کے شہر وینس میں سیاحوں نے حفاظتی ماسک پہننا شروع کر دیے ہیں۔ شہر میں سیاحوں کی بڑی تعداد ماسک لگائے گھومتی ہے۔
مزیدShow less
3/14سری لنکن ایئر لائن کا عملہ بھی حفاظتی ماسک استعمال کر رہا ہے۔ بندرا نائیکے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایئر ہوسٹس ہوں، پائلٹ یا دوسرا عملہ، سب کے لیے ماسک پہننا ضروری ہے۔
مزیدShow less
4/14چین کے شہر ووہان سے واپس آنے والے پرتگالی شہریوں کو لسبن ملٹری ایئرپورٹ پر اتارا گیا اور ان کا میڈیکل چیک اپ کیا گیا۔ اس دوران انہیں الگ تھلگ رکھا گیا۔
مزیدShow less
5/14چین کے صوبہ ژیانگچی میں محلہ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو گھر گھر جاکر مقامی افراد سے سفری معلومات اکٹھی کر رہی ہیں تاکہ کرونا وائرس کی روک تھام میں مدد مل سکے۔ یہ کمیٹیاں کسی بھی شخص میں مرض کی ابتدائی علامات پائے جانے پر اسے اسپتال منتقل کرنے کے انتظامات بھی کرتی ہیں۔
مزیدShow less
6/14ہانگ کانگ میں بھی حفاظتی ماسک بڑے پیمانے پر استعمال کیے جارہے ہیں۔ بیشتر اسٹورز نے بورڈز آویزاں کردیے ہیں کہ تمام ماسک فروخت ہو چکے ہیں۔
مزیدShow less
7/14چین میں روز بروز بڑھتے متاثرین کے علاج کے لیے صرف 10 دن میں ایک اسپتال تعمیر کیا گیا ہے جس نے کام شروع کر دیا ہے۔
مزیدShow less
8/14اسپین میں بھی حفاظتی ماسک کا استعمال بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ ایئر پورٹس، اسپتال، پارک، مارکیٹس اور دیگر عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔
مزیدShow less
9/14پیرس کا ایفل ٹاور ہو یا کوئی اور سیاحتی مقام، اس کی سیر کے لیے آنے والے سیاح حفاظتی ماسک سے اپنے چہرے ڈھانپے نظر آ رہے ہیں۔
مزیدShow less
10/14عراق کے مختلف ایئرپورٹس پر اترنے والے مسافروں کے طبی معائنے کے لیے وزارت صحت نے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ ہر مسافر کا مخصوص آلات سے باڈی ٹمپریچر چیک کیا جا رہا ہے۔
مزیدShow less
11/14متحدہ عرب امارات میں کرونا وائرس کا کیس سامنے آنے کے بعد تمام فضائی مسافروں نے حفاظتی ماسک پہن لیے ہیں۔ عرب امارات کی وزارت صحت ملک میں کرونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق کر چکی ہے۔
مزیدShow less
12/14نیپال میں بچوں کے اسکولوں میں بھی ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ وہاں بھی کرونا وائرس کا ایک کیس رپورٹ ہو چکا ہے۔
مزیدShow less
13/14جنوبی کوریا میں چین سے آنے والے مسافروں کی خصوصی اسکریننگ کی جا رہی ہے۔ ان کا جسمانی درجہ حرارت نوٹ کیا جا رہا ہے۔ مرض کی ابتدائی علامات میں بخار، نزلہ اور زکام شامل ہیں۔
مزیدShow less
14/14تھائی لینڈ کی قومی ایئر لائن کے طیاروں میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اسپرے لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔
مزیدShow less
Previous slide
Next slide
واقعے کے حوالے سے سیکریٹ سروس کا مزید کہنا تھا کہ جب اس شخص نے ای میل میں منسلک دستاویز کے ذریعے اپنا ای میل ایڈریس اور دیگر معلومات درج کیں تو وہ چوری کر لی گئیں اور ان کے کمپیوٹر میں وائرس داخل کر دیا گیا۔
ایجنسی کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی لوگوں کو جعلی خیراتی اداروں کو مالی امداد پر راغب کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے جب کہ ایسے اشتہارات بھی سامنے آ سکتے ہیں جن میں لوگوں کو کہا جا رہا ہو کہ وہ کرونا وائرس سے متعلق ادویات کی فراہمی میں مالی مدد کریں۔ حالانکہ ان اشتہارات کی کوئی حقیقت نہیں ہو گی۔
سیکریٹ سروس کا کہنا ہے کہ خوف اور وہم رکھنے والے افراد اپنی حفاظت کے لیے اکثر جعل سازی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
خفیہ ادارے نے لوگوں کو ہوشیار رہنے کی تاکید کی ہے جب کہ ایسے مزید واقعات ہونے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا ہے۔
گزشتہ ہفتے برطانیہ میں پولیس نے بتایا تھا کہ کرونا وائرس سے متعلق جعل سازی میں لوگوں کو 10 لاکھ ڈالرز سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔
پولیس کے مطابق زیادہ تر لوگوں کو چہرے پر لگائے جانے والے ماسک کی فراہمی کا جھانسہ دے کر جعل سازی کی گئی۔
ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے پولیس نے بتایا تھا کہ ایک شخص نے 20 ہزار ڈالرز دے کر بڑی تعداد میں فیس ماسک منگوائے تھے تاہم یہ ماسک انہیں فراہم ہی نہیں کیے گئے۔