رسائی کے لنکس

logo-print

ہنسنے، ہنسانے والا فرید خان آخرکار کینسر سے شکست کھاگیا


انہیں منہ کا کینسر تھا جو بڑھتے بڑھتے جبڑے تک جا پہنچا۔ حالانکہ، اسے روکنے کے لئے پانچ آپریشن بھی کئے گئے۔ حتیٰ کہ ان کا جبڑا بھی نکال دیا گیا۔ لیکن ’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘۔ ان کے دونوں گردے بھی فیل ہوچکے تھے، دل کا عارضہ الگ لاحق تھا

پاکستان کا ایک نامور کامیڈین اور فنکار فرید خان بہت خاموشی سے کینسر کے ہاتھوں شکست کھا کر کراچی میں انتقال کر گیا۔

اسے اتفاق کہئے یا قسمت کی بے رحمی، فریدخان کو نو عمری میں اپنی پہچان بنانے کے لئے اور آخری عمر میں طویل عرصے تک خود کی بقاء کے لئے ایک نہیں کئی جان لیوا بیماریوں سے جنگ لڑنا پڑی۔

انہیں منہ کا کینسر تھا جو بڑھتے بڑھتے جبڑے تک جا پہنچا، حالانکہ اسے روکنے کے لئے پانچ آپریشن بھی کئے گئے؛ حتیٰ کہ، ان کاجبڑا بھی نکال دیا گیا۔ لیکن، ’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘۔

ان کے دونوں گردے بھی فیل ہوچکے تھے، دل کا عارضہ الگ لاحق تھا۔ اتنی بیماریوں کے باوجود، وہ عرصے تک زندگی کی جنگ لڑتے رہے۔ لیکن، انجام کار ہار انہی کا مقدر بنی۔

گزشتہ ہفتے کی صبح انہوں نے کراچی کے ایک اسپتال میں آخری سانس لی اور شام ہوتے ہوئے وہ عیسیٰ نگری کے قبرستان میں خاک کی چادر اوڑھ کر ہمیشہ کی نیند سو گئے۔

وائس آف امریکہ سے اپنے والد کی یادیں تازہ کرتے ہوئے ان کے بڑے صاحبزادے ارحم نے کہا ’انہوں نے بیماریاں اپنے اوپر کبھی حاوی نہیں ہونے دیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ کب کے لحد میں اتر گئے ہوتے۔ وہ مشفق باپ تو تھے ہی انتہائی ہمدرد بھی تھے نہایت تنگ دستی کی حالت میں بھی انہوں نے بہت سوں کی مدد جاری رکھی۔‘

سوانحی خاکہ
فرید خان نے 50کی دہائی میں کراچی کے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں ان کے علاوہ 8بھائی بہن اور بھی تھے۔ ان کے آباوٴاجداد کا تعلق گوالیارسے تھا۔ لیکن انہیں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کا موقع حیدرآباد میں ملا مگر تعلیم ختم کرتے ہی وہ دوبارہ کراچی آبسے۔

فرید خان کی فنی زندگی کا پہلا پڑاوٴریڈیوپاکستان تھا جہاں انہوں نے کئی سال اپنے جوہر دکھائے۔ لیکن، انہیں اصل شہرت اسٹیج اور ٹی وی ڈراموں سے ملی۔ تاجدار عادل کی کامیڈی سیریز ’سات رنگ‘ اور ’ففٹی ففٹی‘ سے انہیں گھر گھر پہچان ملی۔ وہ اداکاری کے ساتھ ساتھ مصنف بھی تھے جبکہ بہت سے ٹی وی پروگرامز بھی ان کے کریڈیٹ پر رہے۔

ان کا فنی کیریئر کئی دہائی پر محیط ہے۔ انہوں نے اپنے سوگواروں میں 2بیٹے، 2 بیٹیاں، ایک اہلیہ، دو بہوں اور تین پوتوں کو چھوڑا ہے۔ وہ کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں رہائش پذیر تھے اور یہیں سے آخری سفر پر روانہ ہوئے۔

فرید خان کے عیسیٰ نگری قبرستان میں سپرد خاک کئے جانے کے موقع پر ان کے درجنوں رشتہ داروں، احباب، شوبز کے کولیگز، ادبی و سماجی حلقوں اور سیاست سے جڑی شخصیات موجود تھیں۔

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید اور دیگر اہم سیاسی رہنماوٴں نے فرید خان کے انتقال پر افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا۔

XS
SM
MD
LG