رسائی کے لنکس

logo-print

جب ٹنڈولکر کے بلے سے آفریدی کے خواب کو تعبیر ملی


پاکستان کی کرکٹ تاریخ میں چار اکتوبر 1996 کا دن کرکٹ شائقین کے لیے ایک ناقابل فراموش اور ہمیشہ یاد رکھنے والا دن ہے۔

اس دن پاکستان کے لیے اپنا دوسرا ایک روزہ میچ کھیلنے والے شاہد آفریدی نے وہ کارنامہ کر دکھایا۔ جس کی وجہ سے دنیا بھر کے کرکٹ شائقین انہیں آج بھی یاد کرتے ہیں۔

شاہد آفریدی نے کینیا کے شہر نیروبی میں ہونے والے ایک روزہ میچ میں سری لنکا کے خلاف 37 گیندوں پر سینچری بنائی جو کہ اس وقت تک کرکٹ کی تاریخ میں تیز ترین سینچری تھی۔

شاہد آفریدی کا یہ ریکارڈ سن 2014 تک ان کے نام رہا۔

ستمبر 1996 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا حصہ بننے والے لیگ اسپنر شاہد آفریدی کو اس وقت ٹیم کا حصہ بنایا گیا جب پاکستان کی کرکٹ ٹیم نیروبی میں جنوبی افریقہ، سری لنکا اور کینیا کے ساتھ ون ڈے ٹورنامنٹ کھیل رہی تھی۔

اسے شاہد آفریدی کی خوش قسمتی کہیں یا سری لنکا کی بد قسمتی کہ لیگ اسپنر مشتاق احمد کی کمی کو پورا کرنے کے لیے شاہد آفریدی کو ویسٹ انڈیز سے اس وقت پاکستانی کرکٹ ٹیم کا حصہ بننے کے لیے بلایا گیا۔ جب وہ پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے ساتھ ویسٹ انڈیز کے دورے پر تھے۔

شاہد آفریدی کی اس دھواں دار بیٹنگ کو چوبیس سال گزر جانے کے باوجود بھی کرکٹ کے مداح ان کی اس اننگز کو آج بھی یاد کرتے ہیں۔

اس موقع پر شاہد آفریدی نے بھی سماجی رابطوں کی سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ کی ہے۔ جس میں انہوں نے اپنی اس اننگز کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواب سچ ہو جاتے ہیں۔

ٹوئٹ میں شاہد آفریدی نے بھارتی بلے باز سچن ٹنڈولکر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس دن ان کے دیے گئے بلے سے گیند 'میلوں' تک کا سفر کرتی رہی۔

میچ سے قبل شاہد آفریدی نے ساتھی کرکٹر شاداب کبیر سے کہا تھا کہ اُنہوں نے خواب دیکھا کہ وہ مرلی دھرن اور جے سوریا کو چھکے مار رہے ہیں اور اُن کی اننگز نے اُن کا خواب بھی سچ کر دکھایا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی ایک ٹوئٹ میں شاہد آفریدی کی اس اننگز کے بارے میں لکھا ہے کہ شاہد آفریدی نے اس دن چالیس بالوں پر چھ چوکوں اور گیارہ چھکوں کی مدد سے 102 رنز بنائے۔

کرکٹ کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بھی ایک ٹوئٹ میں شاہد آفریدی کی اس اننگز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تیز ترین سینچری کا یہ ریکارڈ کئی سال تک قائم رہا۔

شاہد آفریدی کی ایک مداح نوریما خانم نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ وہ دن پاکستان اور شاہد آفریدی کے لیے تاریخی دن تھا۔ لیکن بد قسمتی سے وہ تب پیدا نہیں ہوئی تھیں۔

ٹوئٹر صارف انوشمن راتھ کا کہنا ہے کہ مشتاق احمد کے زخمی ہونے کی وجہ سے ٹیم کا حصہ بننے والے شاہد آفریدی نے دو اکتوبر کو اپنا پہلا میچ کھیلا اور چار اکتوبر کو میچ میں 37 بالوں پر تیز ترین سینچری بنا دی۔

ٹوئٹرصارف عبداللہ نیاز نے شاہد آفریدی کے کرکٹ ریکارڈز کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے انہیں سراہا۔

دوسری طرف ایک صارف الطاف نے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ چوبیس سال پہلے آج کے دن شاہد آفریدی نے تیز ترین سینچری بنائی تھی۔ تاہم آٹھ سال پہلے آج ہی کے دن شاہد آفریدی سری لنکا کے خلاف صفر پر آؤٹ ہوئے تھے اور پاکستان 2012 کے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے باہر ہو گیا تھا۔


شاہد آفریدی کا یہ ریکارڈ لگ بھگ 17 سال برقرار رہا۔ 2014 میں نیوزی لینڈ کے کورے اینڈرسن نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 36 گیندوں پر سینچری بنا کر یہ ریکارڈ توڑا۔

اس کے بعد سن 2015 میں جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے اے بی ڈی ویلیئرز نے ویسٹ انڈیز کے خلاف جوہانسبرگ میں بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے صرف 31 گیندوں پر سینچری بنا ڈالی اور ایک روزہ میچوں میں تیز ترین سینچری کا ریکارڈ اپنے نام کر لیا جو آج تک قائم ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG