رسائی کے لنکس

logo-print

ایف اے ٹی ایف اجلاس: پاکستان نے پیش رفت رپورٹ تیار کر لی


فائل فوٹو

پاکستانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ آئندہ ماہ فروری میں ہونے والے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) اجلاس کے لیے پیش رفت رپورٹ تیار کر لی گئی ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان نے 27 پوائنٹس پر مشتمل پیش رفت رپورٹ تیار کی ہے۔ پاکستانی حکام پراُمید ہیں کہ ایف اے ٹی اے کے بیشتر اہم نکات پر عمل درآمد کر لیا گیا ہے۔

دوسری جانب پاکستانی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اندرون ملک رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر سزا کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ تاہم جرمانہ بڑھانے کی ترمیم منظور کر لی گئی ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق ایف اے ٹی ایف کی دی گئی گائیڈ لائن کے حوالے سے بیشتر اہم نکات پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔ پاکستانی اقدامات کا جائزہ جوائنٹ ورکنگ گروپ کی رپورٹ پر لیا جائے گا۔

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ بیشتر نکات پر بہت زیادہ پیش رفت کی گئی ہے اور بہت سے ممالک نے پاکستان کی طرف سے کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

البتہ سینئر صحافی اور تجزیہ کار شہباز رانا کہتے ہیں کہ پاکستان کو فی الحال گرے لسٹ میں ہی رکھے جانے کا امکان ہے۔

شہباز رانا کہتے ہیں کہ پاکستان میں فی الحال قانونی اُمور پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ تاہم ایف اے ٹی ایف نے پاکستان سے انتظامی معاملات میں پیش رفت کرنے کا کہا تھا جو بظاہر نظر نہیں آ رہی۔

شہباز رانا کہتے ہیں کہ فروری میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو فی الحال کامیابی ملنا مشکل نظر آرہا ہے۔ لیکن اگر کوئی سیاسی معاملات ہوں تو وہ الگ بات ہے۔

دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں فیٹف کے 11 نکات اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ پر اراکین کو بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ غیر ملکی کرنسی کی غیر قانونی نقل و حمل پر 50لاکھ روپے جرمانہ اور 10سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ حکام نے اراکین کو بریفنگ دی کہ مختلف ممالک میں یہ سزائیں ہماری تجویز کردہ سزاؤں سے زیادہ ہیں۔ سعودی عرب میں 10سال قید اور 50 لاکھ ریال جرمانہ کی سزا ہے۔

رُکن کمیٹی شیری رحمان نے سوال کیا کہ پاکستان میں یہ سزائیں بڑھانے کی وجوہات کیا ہیں۔ جس پر حکام نے بتایا کہ قانون میں تبدیلی ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے کی جا رہی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) واجد ضیا نے بتایا کہ ایف اے ٹی ایف نے سزاؤں پر جلد اور عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔ لہذٰا سزا بڑھانا ضروری ہے۔

سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سزائیں بڑھانے سے سرکاری حکام کو قانون کا غلط استعمال کرنے کا موقع ملے گا۔

سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز نے بھی قانون مسترد ہونے پر حکومتی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان قوانین کا موجودہ حالات میں منظور ہونا ضروری تھا۔ شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ماضی میں بیرون ملک مختلف مالیاتی اداروں میں پاکستان کے حوالے سے شکایات پائی گئی تھیں۔ لہذٰا ان کے تدارک کے لیے ضروری ہے کہ یہ قانون سازی ہو۔ لیکن اپوزیشن نے اسے مسترد کر دیا ہے۔

کمیٹی اجلاس میں وزارت خزانہ کے حکام نے اس قانون سازی کو روکنے کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔ سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ قانون سازی روکنے سے ملک کو نقصان ہو گا۔

وزارتِ خزانہ کے حکام کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان کو یہ قانون سازی نہ کرنے کی سزا دے گا۔ البتہ کمیٹی ارکان نے وزارت خزانہ اور ایف آئی اے کی سفارشات کو ماننے سے انکار کردیا۔

تاہم منی لانڈرنگ کی تحقیقات مکمل ہونے تک رقوم اور پراپرٹی کی ضبطگی کا عرصہ 90 دن سے بڑھا کر 180 دن کرنے کی تجویز کو منظور کر لیا گیا۔ لیکن ملک کے اندر بھی زرمبادلہ کی نقل و حمل کے خلاف قانون کے مسودے کو مسترد کر دیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG