رسائی کے لنکس

logo-print

مالیاتی فنڈ کی پاکستان کو 452.2 ملین ڈالر دینے کی منظوری


عبدالحفیظ شیخ (فائل)

عالمی مالیاتی فنڈ کے جائزہ بورڈ نے پاکستان کی معیشت کا پہلا جائزہ مکمل کرتے ہوئے حکومتی اصلاحات کو پروگرام کے مطابق قرار دیا ہے، جس کے بعد پاکستان کو آئی ایم ایف سے کئے گئے معاہدے کے تحت 452.2 ملین امریکی ڈالر کا حصول ممکن ہوگا۔

جولائی میں ہونے والے معاہدے کے تحت پاکستان کو 39 ماہ میں 6 ارب ڈالر قرضہ ملنے کا معاہدہ طے پایا تھا۔

ایگزیکٹو بورڈ کے فیصلے کے بعد آئی ایم ایف کے فرسٹ ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر ڈیوڈ لپٹن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فنڈ کا پاکستان سے متعلق پروگرام بالکل صحیح سمت میں گامزن ہے جو کہ بار آور ثابت ہو رہا ہے۔ تاہم، انھوں نے کہا تھا کہ معیشت کو درپیش خطرات اب بھی موجود ہیں۔

لیکن، انھوں نے کہا تھا کہ معیشت کے استحکام اور معاشی نمو میں بہتری کے لئے ثابت قدمی سے اصلاحاتی پروگرام پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف حکام کے مطابق، پاکستانی حکومت اس پروگرام پر عملدرآمد کے لئے کمربستہ نظر آتی ہیں۔

پروگرام کے تحت، ٹیکس کی وصولی کے نظام کو بہتر کرنا، ٹیکس چوری کے حربوں کو روکنا، ٹیکس سے متعلق پائی جانے والی خامیوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ محتاط انداز میں اخراجاتی پالیسیاں وضع کرنا شامل ہیں۔

حکام کے مطابق، ٹیکس پالیسیوں میں اصلاحات کا عمل جلد شروع کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ اس پر بروقت عملدرآمد ممکن ہو سکے۔ معیشت میں بہتری کے لیے مرکزی بینک کی خودمختاری بڑھانے اور بہتر طرز حکمرانی کو بھی بہتر بنانے کی ضروت ہے، جبکہ توانائی کے شعبے میں بھی بقایاجات حاصل کرنے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

مالیاتی فنڈ کے حکام نے مزید کہا ہے کہ ملک میں کاروبار کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے، بہتر طرز حکمرانی اور نجی شعبے کی تیز رفتار ترقی کو ممکن بنانےکے لئے کوششیں قابل قدر ہیں۔ مالیاتی فنڈ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومت کے زیر انتظام بڑے کاروباری اداروں میں جاری اصلاحات کے عمل سے پائیدار ترقی کی راہ ہموار ہو سکے گی۔

تاہم، آئی ایم ایف کے مطابق، پاکستان کو اب بھی منی لانڈرنگ سے نمٹنے کے لئے کافی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے فنڈ اور دیگر ادارے تکینکی مدد بھی فراہم کر رہے ہیں۔

ادھر حکومت آئی ایم ایف کے جائزہ بورڈ کے اعلان کو بڑی معاشی کامیابی قرار دے رہی ہے۔ وفاقی وزیر برائے اکنامک افئیرز حماد اظہر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت کی انتھک کاوشوں سے معیشت بحران سے نکل کر ترقی کی راہ پر چل نکلی ہے۔

حماد اظہار کے مطابق، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 73% کی کمی قوم کیلئے بڑی خوشخبری سے کم نہیں۔ حماد اظہر نے کہا ہے کہ گزشتہ ادوار کی بدترین معاشی مینجمنٹ قوم کیلئے کئی طرح کی تکالیف کا سبب بنی تھی اور معیشت دیوالیہ پن کے گڑھے کے کنارے کھڑی تھی۔ لیکن، اب حکومت کی 15 ماہ کی انتھک محنت کے بعد موڈیز نے پاکستانی معیشت کی منفی ریٹنگ تبدیل کرکے مستحکم قرار دے دیا ہے۔

نومبر 2018 میں خسارہ 1166 ملین ڈالرز تھا، جبکہ نومبر 2019 میں یہ خسارہ 319 ملین ڈالرز کی سطح تک کم ہو چکا ہے۔ اسی طرح جولائی تا نومبر 2018 کے دورانیے میں یہ خسارہ 6733 ملین ڈالر تھا، جبکہ 2019 میں اسی دورانیے کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1821 ملین ڈالر تک کم ہوچکا ہے۔

حماد اظہر کے مطابق، نومبر کے مہینے میں ملک سے برآمدات میں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اور عالمی مالیاتی فنڈ نے تسلیم کیا ہے کہ معاشی اصلاحات کا حکومتی ایجنڈا درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، جبکہ معیشت کی مکمل بحالی و ترقی کیلئے یکسوئی اور پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔

تاہم، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کئی محاذوں پر کامیابی کے باوجود بھی معیشت کی بہتری میں اب بھی ایک لمبا سفر باقی ہے۔ سابق وزیر خزانہ اور معاشی ماہر ڈاکٹر حفیظ پاشا نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کرنٹ اکاونٹ خسارہ کافی حد تک کم کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ لیکن اس کا منفی اثر عوام اور معاشی ترقی کی رفتار پر پڑا ہے۔ معاشی ترقی کی رفتار بہت مدھم ہوچکی ہے جبکہ مہنگائی کے باعث عوام مزید پریشان ہیں۔

حفیظ پاشا نے بتایا کہ اکتوبر میں ملک کی صنعتی پیداوار 8 فیصد کم ہوئی ہے، ملکی میں پیٹرول کی درآمدات 30 فیصد، ٹیکسٹائل کی درآمدات بھی 20 فیصد کم ہوئی ہے یعنی یہ خسارہ درآمدات پر کنٹرول کرکے کم کیا گیا ہے، جبکہ برآمدات میں صرف 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی عرصے کے دوران ہماری درآمدات میں20 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس وجہ سے معیشت کا پہیہ سست روی کا شکار ہے، بیروزگاری، غربت اور مہنگائی کی شرح میں میں اضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ شاید ملکی تاریخ میں پہلی بار اس قدر سختی سے کرنٹ اکاونٹ خسارہ آئی ایم ایف کی سفارش کی روشنی میں اس طرح کم کیا گیا ہے، جس سے استحکام تو آیا ہے لیکن معاشی نمو کم ہوگئی ہے۔

اس سوال پر کہ اب حکومت کو کیا کرنا چائیے، سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ عارضی استحکام سے اب ہماری معیشت سانس لینے کی پوزیشن میں آچکی ہے۔ معاشی اعشاریوں میں استحکام آنے کے بعد اب درآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی، ترقیاتی اخراجات کو بڑھاوا دیا جائے اور غربت کو کم کرنے جیسے منصوبوں پر خرچہ کرنے کی ضرورت ہے جبکہ سود کی شرح میں بھی کمی لائی جائے، تاکہ مہنگائی کی صورت میں لوگوں کو درپیش پریشانیوں کو کم کیا جاسکے۔

بورڈ کی جانب سے جاری کردہ اعلان میں پاکستان کو کہا گیا ہے کہ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔ اس پر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے اب تک حکومت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے جو اقدامات کئے گئے ہیں بدقسمتی سے وہ اب تک ناکافی دکھائی دیتے ہیں اور اس میں کوئی خاص کامیابی نہیں ملی ہے۔ آئی ایم ایف کے اس بیان میں اس کا ذکر کیا گیا ہے تو یہ ایک پریشان کن بات ہے۔

فروری میں ایف اے ٹی ایف پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لے گا اور اس پر عملدرآمد نہ کرنے سے ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حفیظ پاشا کے خیال میں یہ ہمارے اوپر ایک لٹکتی تلوار ہے جس کے بارے میں ہمیں جلد اقدامات کرنے ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG