رسائی کے لنکس

پاکستان کو ’واچ لسٹ‘ میں شامل کرنے کی تحریک تین ماہ کے لیے مؤخر


اجلاس نے مزید رپورٹ کی فراہمی کے لیے کہا گیا اور اس معاملے کو تین ماہ تک کے لیے مؤخر کردیا گیا ہے

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پیرس میں منگل کے روز ’فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)‘ کے منی لانڈرنگ پر اجلاس میں پاکستان کو ’واچ لسٹ‘ میں شامل کرنے کی امریکی قرارداد کامیاب نہیں ہوئی اور یہ معاملہ تین ماہ تک کے لیے مؤخر کردیا گیا ہے۔

ایک ٹوئیٹ میں خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ’’ہماری کوششیں رنگ لے آئیں‘‘ اور یہ کہ ’’ہم دوستوں کے شکرگزار ہیں‘‘۔

بتایا جاتا ہے کہ اجلاس نے مزید رپورٹ کی فراہمی کے لیے کہا ہے اور یہ کہ اس معاملے کو تین ماہ تک کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔

قرارداد میں تجویز دی گئی تھی کہ نگرانی کی فہرست میں شامل کیا جائے ’’جس کی نگرانی منی لانڈرنگ پر نظر رکھنے والا گروپ کرے‘‘۔

ایک حالیہ اخباری بریفنگ میں امریکی محکمہٴ خارجہ کی ترجمان نے بتایا تھا کہ ’’ایک طویل عرصے سے امریکہ کو پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ، انسداد دہشت گردی کے معاملات میں کوتاہیاں برتنے پر تشویش لاحق رہی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کو نگرانی کی فہرست میں شامل کیا جائے‘‘۔

ایک سوال کے جواب میں ہیدر نوئڑٹ نے بتایا تھا کہ ’’اس سلسلے میں ’ایف اے ٹی ایف‘ (فنانشل ایکشن ٹاسک فورس) سے گفت و شنید کی گئی ہے‘‘۔

پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و اقتصادی امور، مفتاح اسماعیل پیرس میں موجود تھے، جہاں اجلاس میں اُنھوں نے پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔

یہ چھ روزہ اجلاس اتوار سے شروع ہوا تھا جس میں ’’پاکستان کا نام دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے اقدامات نہ کرنے والے ملکوں‘‘ کی ’واچ لسٹ‘ میں شامل کرنے سے متعلق امریکہ و برطانیہ کی پیش کردہ تجویز زیر غور آئی۔

اقوام متحدہ کی طرف سے کالعدم تنظیموں، بشمول حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ اور اس کی ذیلی تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لیے حکومت نے حالیہ ہفتوں میں عملی اقدامات کیے ہیں اور اس سلسلے پاکستانی صدر نے ایک ترمیمی آرڈیننس کی بھی منظوری دی ہے۔

ادھر ایک پاکستانی نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ’ایف اے ٹی ایف‘ قرارداد کے سلسلے میں جن ملکوں نے پاکستان کا ساتھ دیا اُن میں ’’سعودی عرب، ترکی اور چین شامل ہیں‘‘۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ ’’پاکستان امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے‘‘۔

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ’’ایک عرصے سے باہمی تعلقات کا معاملہ یکطرفہ ہو کر رہ گیا ہے‘‘۔ بقول اُن کے ’’پاکستان کا وقار اور روایات تباہ ہوئی ہیں، جو ہمیں قبول نہیں‘‘۔ ساتھ ہی اُن کا کہنا تھا کہ ’’ہم امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں‘‘۔

اس سوال پر آیا تین ماہ کے بعد لیے جانے والے جائزے میں کیا ہو گا خواجہ آصف نے اس امید کا اظہار کیا کہ ’’پاکستان کے اتحادی ہمارا ساتھ دیں گے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG