رسائی کے لنکس

logo-print

ٹیرر فنڈنگ کی فہرست میں شامل کرانے کی کوششوں پر پاکستان کی تشویش


پاکستان کا دفتر خارجہ اسلام آباد، فائل فوٹو

پاکستانی دفتر خارجہ نے پاکستان کا نام ان ملکوں کی فہرست میں شامل کرنے کی کوششوں پر شدید تحفظات کا اظہارکیا ہے جنہوں نے دہشت گردوں کی مالی اعانت روکنے کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے ہیں۔

اسلام آباد کی طرف سے یہ باضابطہ ردعمل امریکہ اور اس کے بعض اتحادی ملکوں کی طرف سے پاکستان کو ان ملکوں کی فہرست میں شامل کرنے کی تحریک پیش کرنے کے بعد سامنے آیا ہے جو مبینہ طور پر عالمی سطح پر دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی روکنے سے متعلق ضابطہ کار پر پوری طرح عمل پیر ا نہیں ہیں۔

یہ تحریک ابتدائی طور پر امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے پیش کی گئی تھی اور بعد ازاں فرانس اور جرمنی نے بھی اس کے تائید کر دی ہے جس کے تحت پاکستان کا نام پیرس میں قائم بین الحکومتی ادارے 'فنانشل ایکشن ٹاسک فورس، یعنی ایف اے ٹی ایف کی واچ لسٹ میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ واچ لسٹ غیر قانونی مالیاتی لین دین کی سرگرمیوں کی نگرانی سے متعلق ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کو قبل ازیں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ضابطہ کار پر موثر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے فروری 2012 میں اس واچ لسٹ میں شامل کرتے ہوئے پاکستان سے موثر اقدامات اٹھانے کا کہا گیا تھا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے جمعرات کو معمول کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان کے طرف سے منی لانڈرنگ کے ذریعے دہشت گردی کے لیے وسائل کی فراہمی روکنے کے موثر اقدامات کی وجہ سے پاکستان کا نام جون 2015 ء میں اس فہرست سے ہٹا دیا گیا تھا۔

تاہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارد اد 1266 کے تحت بعض شدت پسندوں بشمول لشکر طیبہ، جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے خلاف عائد کی گئی تعزیرات پر عمل دارآمد نہ کرنے کے حوالے سے بعض تحفظات کی وجہ سے پاکستان کا معاملہ منی لانڈرنگ سے متعلق ایشیا پیسیفک گروپ کے سپرد کر دیاگیا۔

محمد فیصل نے کہا پاکستان گذشتہ ماہ غیر قانونی فنڈز کی ترسیل روکنے حکومتی اقدامات کے متعلق ایشیا پیسیفک گروپ کا آگاہ کر چکا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس دوران امریکہ اور برطانیہ نے مشترکہ طور پر پاکستان کا نام دہشت گردی سے متعلق نگرانی کی فہرست میں شامل کرنے کی تحریک پیش کر دی۔

محمد فیصل نے کہا کہ"ان نئے معاملات ا ٹھانے کا بظاہر مقصد پاکستان کو انٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کو روکنے کے سلسلے میں پاکستان کے اقدامات پر سوال اٹھانا ہے ۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اس تحریک کو پاکستان کے اقدامات کا جائزہ مکمل ہونے سے پہلے پیش کرنا، ان کے بقول، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے طریقہ کار کو متاثر کر کے پاکستان کی اقتصادی ترقی روکنا ہے۔

حالیہ برسوں میں پاکستان کو ان کالعدم تنظیموں اور عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے پر تنقید کا سامنا رہا ہے جو مبینہ طور پر نام بدل کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھیں۔

تاہم پاکستان کی حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ ایسی تنظیموں کی سرگرمیوں کی بلاتفریق نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے اور رواں ہفتے ہی پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حکام نے جماعت الدعوۃ اور اس کی ذیلی تنظیم فلاح انسانیت کے تحت چلنے والے فلاحی اداروں کا کنڑول محکمہ اوقاف کے سپرد کر دیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG