رسائی کے لنکس

logo-print

’ایف اے ٹی ایف‘ کا پاکستان سے مزید اقدامات کرنے کا مطالبہ


ایف اے ٹی ایف اجلاس (فائل)

آٹھ اکتوبر سے ایشیا پیسفک گروپ کے اراکین انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

فائننشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ’ایشیا پیسفک گروپ‘ کے اراکین پاکستان حکام سے ملاقاتوں کے بعد اپنی سفارشات پر مبنی رپورٹ جمعے کو حکومتِ پاکستان کو دیں گے۔ بعض حکومتی حلقوں کے مطابق، ایشیا پیسفک گروپ نے پاکستان سے مزید اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

’ایف اے ٹی ایف‘ کی ایشیا پیسفک گروپ کی ٹیم گذشتہ 10 روز سے پاکستان میں موجود ہے جہاں اُس نے وزارتِ خارجہ، وزارتِ خزانہ، مرکزی بینک، ایف آئی اے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو ، نیب سمیت پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختوانخوا کے صوبائی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔

کئی روز سے پاکستانی حکام سے جاری ان ملاقاتوں کے بعد ایشیا پیسفک گروپ کی ٹیم اپنی سفارشات پر مبنی رپورٹ کل، یعنی جمعے کو پاکستانی حکام کو دی گی۔ اس رپورٹ میں دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے سے متعلق اقدامات پر بھی سفارشات شامل ہوں گی۔

یاد رہے کہ آٹھ اکتوبر سے ایشیا پیسفک گروپ کے اراکین انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لے رہی ہے۔

وزارتِ خزانہ کے ایک سینیئر آفسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’ایشیا پیسفک ٹیم‘ پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر مطمئن نہیں اور گروپ نے پاکستان سے قوانین میں سختی سمیت مزید اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان نے منی لانڈرنگ روکنے کے لیے انسدادِ منی لانڈرنگ کا قانون 2010ء اور ایف آئی اے کے قانون میں مجوزہ ترمیم کا مسودہ بھی ایشیا پیسفک گروپ کو دکھایا ہے اور اُس پر اُن کی رائے لی گئی ہے۔

واضح رہے کہ کابینہ سے منظوری کے بعد یہ ترامیمی مسودے پارلیمنٹ میں بھیجے جائیں گے۔

وزارتِ خزانہ کے ذرائع نے بتایا ہےکہ انسدادِ منی لانڈرنگ کا قانون 2010ء کی مجوزہ ترامیم کے تحت جرم کے مرتکب افراد کے لیے جرمانے اور سزا کو بڑھایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کا جرم ثابت ہونے پر کم سے کم سزا ایک سال سے بڑھا کر تین سال اور زیادہ سے زیادہ قید کی سز 10 سال کر دی ہے جبکہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے کو بھی مزید اختیارات ملیں گے جس کے بعد ایف آئی اے کسی بھی شخص کی بینک کی تفصیلات تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔

وزراتِ خزانہ کے سینیئر اہلکار نے بتایا کہ ایف آئی اے نے حال ہی میں جعلی اور بے نامی اکاؤنٹس کے بارے میں کی گئی تحقیقات کے معائنہ کاروں کو آگاہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ دہشت گردوں کے خلاف مالی معاونت روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے پر فائننشیل ایکشن ٹاسک فورس نے رواں سال جون میں پاکستان کو ’گرے لسٹ‘ میں شامل کر دیا تھا۔

اس سے قبل فروری 2012ء میں بھی پاکستان کو ’ایف اے ٹی ایف‘ کی ’گرے لسٹ‘ میں شامل کیا گیا تھا، لیکن سنہ 2015 میں دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے سلسلے میں کیے گئے اقدامات کے بعد پاکستان کو ’گرے لسٹ‘ سے نکال دیا گیا تھا۔

اُس وقت کے سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسود کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ’گرے لسٹ‘ میں شامل ہونے کی ایک وجہ تکنیکی سے زیادہ سیاسی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے تحت کالعدم قرار دی گئی تنظیموں کو پاکستان میں کالعدم قرار نہ دیے جانے کے سبب اُسے ’گرے لسٹ‘ میں ڈالا گیا۔

سابق سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسود کے مطابق، پاکستان کے انسدادِ منی لانڈرنگ کے قوانین جامع ہیں اور صرف اُن کے عملدرآمد کا مسئلہ ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال فروری میں ہونے والے ’ایف اے ٹی ایف‘ کے اجلاس سے قبل پاکستان نے صدارتی آرڈینس کے ذریعے اقوام متحدہ کے تحت کالعدم قرار دی گئی تنظیموں، جیسے ’جماعت الدعوۃ‘ اور ’فلاحِ انسانیت‘ سمیت دیگر تنظیموں کو کالعدم قرار دیا تھا۔

’ایف اے ٹے ایف‘ نے پاکستان کو انسداد منی لانڈرنگ، دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے 26 نکات پر مشتمل فہرست بھی دی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG