رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں شامل


ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کا ایک منظر۔ فائل فوٹو

پاکستان کی نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کی کوششوں کے باوجوددہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی ترسیل پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم'فنانشل ایکشن ٹاسک فورس' (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کردیا ہے ۔

پاکستانی دفترخارجہ کے ترجمان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں پاکستان کے شامل ہونے کی تصدیق کردی ہے اورکہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں پاکستان کی شمولیت غیرمتوقع نہیں ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فروری میں ہی بتا دیا تھا کہ پاکستان کو جون میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں ڈال دیا جائے گا۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ اب پاکستان اورایف اے ٹی ایف کے درمیان ایکشن پلان پر عملدرآمد پر بات چیت ہو رہی ہے۔ گرے لسٹ میں رہتے ہوئے ہمیں اس ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔ اگر ہماری کارکردگی بہتر ہوئی تو واپس نکل سکتے ہیں۔ لیکن اگر کارکردگی بہتر نہ ہوئی تو مسائل ہونگے۔ اس سے پہلے بھی کارکردگی کی بنیاد پر گرے لسٹ سے باہر آئے تھے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کے حق میں ووٹ دیا ۔ جبکہ پاکستان کے حلیف ممالک تصور کیے جانے ممالک ترکی، چین اور سعودی عرب نے بھی اس کی حمایت کی۔

پیرس سے پاکستانی صحافی خالد حمید فارقی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ فروری میں کیا جا چکا تھا لیکن پاکستان کو دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کا بھی کہا گیا تھا۔ جن پر عمل درآمد کی صورت میں پاکستان اس لسٹ میں آنے سے بچ سکتا تھا۔ لیکن پاکستان رکن ممالک کو ان اقدامات سے مطمئن نہیں کر سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ٹیم میں ماہرین اور تجربہ کار افراد شامل نہیں تھے جس کے باعث نگران حکومت کی بھیجی جانے والے ٹیم ٹاسک فورس کے ارکان کو قائل کرنے میں ناکام رہی۔

اس کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا فرانس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کی بات اس لیے کی کہ فرانس کی طرف سے پاکستان میں حافظ سعید کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے دباؤ تھا، لیکن اس کے باوجود حافظ سعید کی کالعدم تنظیم کو مختلف نام سے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی۔

پاکستان کو بین الاقوامی برادری کی طرف سے بھی بعض شدت پسند تنظیموں کے خلاف موثر کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کا اگلا اجلاس ستمبر میں ہوگا اور خدشہ ہے کہ پاکستان کو موثر اقداما ت نہ کرنے پر بلیک لسٹ بھی کیا جاسکتا ہے ۔ جس سے پاکستان کو نہ صرف معاشی طور پر نقصانات کا سامنا ہو سکتا بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یف اے ٹی ایف کی طرف سے اس فیصلے کا باقاعدہ اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔ ممکن ہے کہ اس فیصلے سے متعلق معلومات جمعے کے روز جاری ہونے والے حتمی اعلامیے میں ہی جاری کی جائیں۔

انگریزی روزنامے ’ دی نیوز‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے وزیر داخلہ محمد اعظم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایف اے ٹی ایف امریکہ اور بھارت کے شدید دباؤ میں ہے کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل کیا جائے، حتی کہ انہوں نے پاکستان کے قریبی اتحادیوں، چین اور سعودی عرب پر بھی اس سلسلے میں اپنے اعتراضات واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا۔

پچھلے ہفتے نگران وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ ان کی وزارت نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے ادارہ جاتی طریقہ کار کو بہتر بنا دیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جسے 1989 میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی سے منسلک مالی معاونت کی روک تھام اور بین الاقوامی مالیاتی نظام کو اس سلسلے میں درپیش خطرات سے بچانے لیے قائم کیا گیا تھا۔

پاکستان اس سے قبل 2012 سے 2015 تک فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں رہ چکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG