رسائی کے لنکس

گاڈفادر، جیمز بونڈ اور ویسٹرن فلموں کے عاشق صدور


Movie Poster

کرونا وائرس نے سب کو گھروں میں قید کردیا ہے اور کرنے کو بہت کچھ نہیں۔ اس لیے وہ لوگ بھی فلمیں دیکھ رہے ہیں جو پہلے نہیں دیکھتے تھے یا انھیں اس کی فرصت نہیں ملتی تھی۔ اسی لیے سوشل میڈیا پر اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ کوئی اچھی فلم بتائیں۔

کیوں نہ ہم آپ کو بتائیں کہ امریکی صدر کے گھر یعنی وائٹ ہاؤس میں کون سی فلمیں دیکھی گئیں اور صدور کو کون سی فلمیں پسند آئیں۔ اس طرح ایک اچھی فہرست بن جائے گی جو فلم بینوں کو کچھ دن ضرور خوش رکھ سکتی ہے۔

صدر براک اوباما کتابیں پڑھنے کے علاوہ فلمیں دیکھنے کے بھی شوقین ہیں۔ صدر بننے سے پہلے ان سے پسندیدہ فلم کا سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا، مجھے گاڈ فادر بہت پسند ہے۔ ون اور ٹو۔ لیکن تھری نہیں۔ پھر انھوں نے بتایا کہ لارنس آف عریبیا اور کاسابلانکا بھی ان کی پسندیدہ فلموں میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا، کاسابلانکا کسے پسند نہیں!

صدر رونلڈ ریگن خود ہالی ووڈ کے اداکار تھے اور انھوں نے درجنوں فلموں میں کام کیا تھا۔ ان کی پسندیدہ فلموں میں ہائی نون، اٹس آ ونڈرفل لائف اور ساؤنڈ آف میوزک شامل تھیں۔ انھوں نے ایک بار انجانے میں جیمز بونڈ کی فلم آکٹوپسی کی تشہیر کردی تھی جب یہ کہہ بیٹھے کہ جیمز بونڈ زیرو زرو سیون اصل میں ٹین یعنی پرفیکٹ ہے۔

صدر جان ایف کینیڈی بھی جیمز بونڈ کے عاشقوں میں شامل تھے۔ صدر بننے سے پہلے انھیں اس سیریز کے پہلے ناول کیسینو رویال کی ایک کاپی پیش کی گئی تھی اور بعد میں ان کی ملاقات جیمز بونڈ کے خالق ایان فلیمنگ سے بھی ہوئی۔ جیمز بونڈ کی پہلی فلم ڈاکٹر نو ان کے دور صدارت میں ریلیز ہوئی تھی اور وہ انھوں نے پرائیویٹ اسکریننگ میں دیکھی۔ دستاویزی فلم ایوری تھنگ اور نتھنگ کے مطابق صدر کینیڈی نے ایک بار خواہش ظاہر کی تھی کہ کاش جیمز بونڈ ان کے عملے میں شامل ہوتا۔

صدر کینیڈی کا نام ان کے دور کی سوپر اسٹار مارلن منرو کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ لیکن، فلمیں وہ جان وین اور رینڈولف اسکاٹ کی ویسٹرن ہی دیکھتے تھے۔ ان کی پسندیدہ فلموں میں دا لانگسٹ ڈے، رومن ہالی ڈے، اسپارٹیکس، بیڈ ڈے ایٹ بلیک روک اور آئیوو جیما شامل تھیں۔

صدر ہیری ایس ٹرومین ویسٹرن موویز کے شوقین تھے اور ان کی پسندیدہ فلم مائی ڈارلنگ کلیمنٹائن تھی جس کے ہیرو جین فونڈا تھے۔

صدر بل کلنٹن بھی ویسٹرن موویز کے شوقین ہیں۔ ہائی نون انھیں اس قدر پسند تھی کہ انھوں نے وائٹ ہاؤس کے زمانے میں یہ فلم 17 بار دیکھی۔ انھوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کی دوسرے نمبر پر پسندیدہ فلم کاسابلانکا ہے۔

صدر آئزن ہاور فلموں کے ایسے دلدادہ تھے کہ انھوں نے اپنے آٹھ سالہ دور میں وائٹ ہاؤس میں دو سو فلمیں دیکھیں۔ ان کی پسندیدہ فلم بھی ہائی نون تھی۔ انھوں نے بل کلنٹن جتنی بار تو نہیں۔ لیکن کئی بار اسے وائٹ ہاؤس میں دیکھا۔

صدر جمی کارٹر کو فلموں کا شوق آئزن ہاور سے بھی زیادہ تھا۔ وہ ہر تیسرے دن وائٹ ہاؤس کے تھیٹر میں فلم دیکھتے تھے۔ چار سال میں انھوں نے 480 فلمیں دیکھیں۔ وہ پہلے صدر تھے جنھوں نے وائٹ ہاؤس میں ایکس ریٹڈ فلم دیکھی۔ اس کا نام مڈنائٹ کاؤبوائے ہے اور اسے 1969 میں آسکر ایوارڈ ملا تھا۔

دلچسپ بات ہے کہ صدر کارٹر نے صدارت کے شروع کے دنوں میں جو فلمیں دیکھیں، ان میں آل دا پریزیڈنٹس مین شامل تھی۔ یہ وہی قصہ ہے جس کے نتیجے میں صدر رچرڈ نکسن کو استعفا دینا پڑا اور اگلے انتخاب میں کارٹر صدر بنے۔

صدر نکسن کی پسندیدہ فلم 1970 میں ریلیز ہوئی پیٹن تھی۔ یہ انھیں اتنی پسند آئی کہ انھوں نے کئی بار وائٹ ہاؤس میں دیکھی۔ اخبار ٹیلی گراف نے لکھا کہ نکسن اپنے عملے سے کہتے تھے کہ وہ یہ فلم دیکھیں۔ وہ اس کا چلتا پھرتا اشتہار بن گئے تھے۔

صدر جارج ڈبلیو بش کی پسندیدہ فلم فیلڈ آف ڈریمز تھی۔ انھوں نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ یہ فلم دیکھتے ہوئے رو پڑے تھے، کیونکہ انھیں یاد آیا تھا کہ وہ اپنے گھر کے صحن میں والد کے ساتھ گیند کو کیچ کرنے کا کھیل کھیلتے تھے۔

جارج ڈبلیو بش کے والد صدر جارج بش سینئر، صدر لنڈن بی جانسن اور صدر جیرالڈ فورڈ ایسے صدور تھے جنھیں فلموں سے رغبت نہیں تھی۔ انٹرٹینمنٹ ویکلی کے مطابق لنڈن بی جانسن کو دا سرچرز، فورڈ کو ہوم الون اور بش سینئیر کو دا لانگسٹ ڈے پسند تھی۔ بش سینئر نے ایک اور موقع پر کہا تھا کہ انھیں فلم وائیوا زپاٹا اچھی لگی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ انھوں نے فلم دیکھی یا نہیں اور صرف اس کے نام کی وجہ سے تو پسند نہیں کرتے تھے۔ صدر بش کی آئل کمپنی کا نام زپاٹا کارپوریشن تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنا تعلق شوبزنس سے رہا ہے اور انھوں نے زندگی بھر فلمیں دیکھی ہیں۔ ان کی پسندیدہ فلموں میں سٹیزن کین، دا گاڈفادر، دا گڈ دا بیڈ اینڈ دا اگلی، گڈ فیلاز اور گون ودھ دا ونڈ شامل ہیں۔

صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انھیں مکی ماؤس کے کارٹون بہت پسند تھے۔ وہ عالمی کساد بازاری اور جنگ عظیم کے دنوں میں بھی وائٹ ہاؤس میں کارٹون دیکھتے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG