رسائی کے لنکس

’کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ، حقائق جلد سامنے آئیں گے‘


Pakistan India

وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار خان آفریدی نے کہا ہے کہ وہ رانا ثنااللہ کے اس مطالبے کو ماننے کو تیار ہیں کہ ان کے کیس سے متعلق جوڈیشل انکرائری کی جائے۔

جمعرات کے روز وائس آف امریکہ سے ’فیس بک لائیو‘ انٹرویو میں بات کرتے ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل انکوائری سمیت وہ تمام آپشن استعمال کرنے کو تیار ہیں جن سے انصاف تک پہنچا جائے۔ بقول ان کے، رانا ثنااللہ کو اپنے حوالے سے ٹرائل میں تمام ثبوت پیش کرکے بے گناہی ثابت کرنا چاہئے۔

رانا ثنااللہ کے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہ گرفتار کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کو جرم کے بارے میں نہیں بتایا گیا بلکہ اگلے دن ہیروئین سمگلنگ کا کیس بنایا گیا، شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ ’’اینٹی نارکوٹکس فورس ایک پیشہ ورانہ فورس ہے جسے میجر جنرل ہیڈ کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کا منشیات اور جرائم سے متعلق آفس اس کی تعریف کرتا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’کسی پر بھینس چوری جیسے مقدمات بنا کر‘‘ لوگوں کو ذلیل کرنا ان کی سوچ نہیں ہے؛ اور یہ کہ تمام ادارے آزاد ہیں۔

شہریار آفریدی نے کہا کہ رانا ثنااللہ کو ہائی کورٹ نے ضمانت دی ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ وہ اس کے خلاف سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ’’ 4 جنوری سے اس کیس کا ٹرائل شروع ہو رہا ہے۔ قوم کے سامنے آ جائے گا کہ کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ‘‘۔

انہوں نے کہا کہ پہلے 17 دن میں ہی کورٹ کو تمام ثبوت فراہم کر دئے گئے تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ کیس کے سلسلے میں رانا ثنااللہ کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کیے گئے۔

ماضی کے حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں نے اینٹی نارکوٹکس فورس کی صلاحیت نہیں بڑھائی۔ یہ فورس صرف 29 سو کی تعداد کے باوجود بہترین نتائج دے رہی ہے۔ انہیں مناسب آلات اور سہولیات نہیں دی گئیں اس لیے اس کیس سے متعلق سوالات جنم لے رہے ہیں۔

شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ چونکہ اے این ایف کے اہلکاروں نے انٹیلیجنس کی موجودگی میں گواہی دی اس لیے اس کیس میں تمام گواہ اے این ایف کے تھے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’’اس پہلے عام لوگوں کو بھی ایسے ہی پکڑا گیا تھا۔ پہلے کسے نے ایسی بات نہیں کی۔ صرف رانا ثنااللہ کے کیس میں ہی کیوں یہ بات کی جا رہی ہے؟‘‘

فوٹیج اور ویڈیو کے تنازع کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا اور اسمبلی سمیت ہر جگہ وہ کہتے رہے ہیں کہ تمام ثبوت عدالت میں پہلے 17 روز میں پیش کر دئے تھے۔ سیف سٹی سمیت دیگر فوٹیجز کے بارے میں دفاعی وکیل نے بھی مانا کہ عدالت میں پیش کی گئی ہیں۔

اس بات کے جواب میں کہ دو دہائیوں کے بعد اس کیس میں ایک فوجی افسر نے کیوں ایف آئی آر درج کروائی، شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ ہم اداروں کے کام میں مداخلت نہیں کرتے۔ اس کی ذمہ داری اے این ایف کی ہے اور وہ اپنے لیگل فریم ورک کے مطابق کام کرتے ہیں۔

کیس کو سیاسی ماننے سے انکار کرتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ کسی کے سیاسی پارٹی سے تعلق رکھنے سے کیس سیاسی نہیں ہو جاتا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG