رسائی کے لنکس

منی سوٹا مسجد دھماکا دیسی ساختہ بم کا تھا: ایف بی آئی


واشنگٹن ڈی سی میں ایف بی آئی کا دفتر۔ فائل فوٹو

امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے "ایف بی آئی" کے حکام کا کہنا ہے کہ ریاست منی سوٹا کی ایک مسجد میں ہونے والا دھماکا دیسی ساختہ بم سے کیا گیا۔

بلومنگٹن شہر کے دارالفاروق اسلامک سینٹر میں ہفتہ کی صبح ہونے والے اس دھماکے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔

ایف بی آئی کی طرف سے تحقیقات کے انچارج ایجنٹ رک تھورنٹن نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "فی الوقت ہماری توجہ اس بات پر ہے کہ یہ کس نے اور کیوں کیا۔ کیا یہ نفرت پر مبنی واقعہ ہے؟ کیا یہ دہشت گرد کارروائی ہے؟۔۔۔اس بارے میں تحقیقات سے تعین کیا جائے گا۔"

محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ وفاقی، ریاستی اور مقامی حکام کے ساتھ "قریبی رابطے" میں ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

"محکمہ ہر کسی کے اپنے عقیدے کی مکمل آزادی کے ساتھ پاسداری کی حمایت کرتا ہے کسی بھی مذہبی مقام پر حملوں کی مذمت کرتا ہے۔"

یہ دھماکا صبح پانچ بجے کے قریب ہوا جب چند لوگ یہاں سے نماز فجر ادا کرنے کے بعد نکل رہے تھے۔

اس مسجد کے منتظم نے قبل ازیں کہا تھا کہ ایک شخص کو مسجد کے باہر دیکھا گیا تھا اور ہو سکتا ہے کہ وہ اس واقعے میں ملوث ہو۔

اس اسلامک سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد عمر نے وائس آف امریکہ کی صومالی سروس کو بتایا کہ "ایک نمازی نے پک اپ ٹرک پر سوار ایک شخص کو دیکھا، پھر گاڑی کا دروازہ زور سے بند کرنے کی آواز آئی پھر دھواں سا اندر آیا اور دھماکا ہوا۔"

عمر کا کہنا تھا کہ انھیں نہیں معلوم کہ ان کی مسجد کو کیوں نشانہ بنایا گیا لیکن اس مرکز کو پہلے بھی دھمکیاں اور اسلام مخالف نفرت پر مبنی فون کالز اور ای میلز موصول ہو چکی ہیں۔

امریکہ میں مسلمانوں کی ایک بڑی نمائندہ تنظیم "کیئر" نے کہا ہے رواں سال کی پہلی ششماہی میں امریکہ میں اسلامی مراکز کے خلاف حملوں میں دو گنا اضافہ ہوا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG