رسائی کے لنکس

ایک دور تھا جب لاہور کی ویٹرنری یونیورسٹی، "گھوڑا اسپتال" کے نام سے جانی جاتی تھی اور یہاں پڑھنے والے طلبہ کو جانوروں کا ڈاکٹر کہا جاتا تھا۔ اب یہاں کے طلبہ کو ڈگری ملنے سے پہلے ہی نوکری کی پیشکش ہوجاتی ہے اور ان میں بہت سی دبنگ خواتین بھی شامل ہیں!

"میری پہلی پوسٹنگ چھانگا مانگا وائلڈ لائف فاریسٹ میں ہوئی۔ سرکاری گاڑی کی سہولت تو میسر تھی نہیں، تو روزانہ لاہور سے چھانگا مانگا لوکل بس پر سوار ہو کر جانا پڑتا تھا۔ اور آپ سوچ سکتی ہیں کہ ہچکولے کھاتی بس میں جہاں مردانے، زنانہ خانے کی کوئی تمیز نہ ہو، وہاں میرا آنے جانے کا سفر عموماً لڑ جھگڑ کر ہی گزرتا تھا۔"

یہ الفاظ اور تجربہ ہے ڈاکٹر وردہ گل کا، جو آج کل لاہور چڑیا گھر میں بطور ویٹرنری آفیسر تعینات ہیں۔

ڈاکٹر وردہ ہری پور ہزارہ سے تعلق رکھتی ہیں اور اپنی دبنگ بول چال سے جانی جاتی ہیں۔ اس فیلڈ میں اُن کا آنا خالصتاً اُن کی اپنی مرضی تھی۔

ڈاکٹر وردہ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ویٹرنری کے شعبے میں خواتین ڈاکٹروں کے کم آنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ جانوروں کے مراکزِ صحت یا فارم ہاوس شہر سے باہر دیہی علاقوں میں ہوتے ہیں، جہاں جانا یا رہائش رکھنا خواتین کے لیے مُشکل ہوتا ہے۔

ڈاکٹر مدیحہ
ڈاکٹر مدیحہ

لاہور کے چڑیا گھر میں تعینات دوسری ویٹرنری افسر بھی خاتون ہی ہیں۔

ڈاکٹر مدیحہ اشرف ہنس مُکھ طبیعت کی مالک ہیں لیکن اپنے فرائض کی ادائیگی میں ڈرتی ہیں اور نہ ہی ہچکچاتی ہیں۔

ڈاکٹر مدیحہ کا کہنا ہے کہ عام طور پر لڑکیوں کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ لڑکیاں چھپکلی، لال بیگ یا چوہے جیسے چھوٹے جانوروں سے ڈرتی ہیں لیکن اُنہیں خوشی ہے کہ وہ اس بات کو غلط ثابت کر رہی ہیں۔

وہ فخر سے کہتی ہیں کہ اُنہوں نے اب تک شیر، ریچھ، زرافے، ہاتھی اور دیگر بُہت سے جانوروں کا علاج کیا ہے۔

حیوانات کا ڈاکٹر بننے کے لیے ان بہادر خواتین نے لاہور کی یونیورسٹی آف ویٹرینری اینڈ اینمل سائنسز سے ڈاکٹر آف ویٹرنری میڈیسن کی ڈگری کی ہے۔

ایک دور تھا جب لاہور کی یہ یونیورسٹی کو "گھوڑا اسپتال" کے نام سے پہچانی جاتی تھی، اور وہاں پڑھنے والے طلبہ کو جانوروں کا ڈاکٹر کہا جاتا تھا۔ لیکن اب اس یونیورسٹی سے امتحان پاس کرنے والوں کو ڈگری ملنے سے پہلے ہی نوکری کی پیشکش ہونے لگتی ہے۔ یونیورسٹی سے کامیاب ہونے والے بُہت سے طالب علم ان دنوں دُبئی اور دیگر ملکوں میں ملازمتیں کر رہے ہیں۔

یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف اناٹومی اینڈ ہسٹالوجی کی چیئرپرسن ڈاکٹر حفصہ زینب کا کہنا ہے کہ کبھی یہ شعبہ خواتین کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ان کے بقول نوے کی دہائی میں ہر کلاس میں تین سے چار طالبات نظر آتی تھیں۔ لیکن گزشتہ کُچھ برسوں میں میڈیسن، سرجری، اناٹومی سمیت تمام شعبوں کی ہر کلاس میں کم از کم دس بچیاں ضرور ہوتی ہیں۔ یہ تعداد شاید اس سے بھی کہیں زیادہ ہوسکتی ہے، لیکن کوٹہ سسٹم کی وجہ سے ہم کم طالبات کو ہی جگہ دے پاتے ہیں۔

ڈاکٹر حفصہ کہتی ہیں کہ پہلے اس شعبے میں صرف وہی طالبات آتی تھیں، جنہیں ایم بی بی ایس میں داخلہ نہیں ملتا تھا۔ لیکن ان کے بقول اب ان کے پاس نہ صرف پورے پاکستان بلکہ یورپ اور کینیڈا سے بھی لڑکیاں پڑھنے آتی ہیں، جس کی ایک وجہ یہاں تعلیم کا سستا ہونا بھی ہے۔

اگرچہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں کی تعداد کلاس میں بیٹھے ہم جماعت لڑکوں کے مقابلے میں نوے فیصد کم ہے ، پھر بھی وہ کہتی ہیں کہ اُنہیں یونیورسٹی میں داخلہ اُن کی قابلیت کے باعث ملا ہے اور اس بات کو ان کے ساتھی طالب علم بھی سمجھتے ہیں اور اسی بنیاد پر اُن کی عزت کرتے ہیں۔

یونیورسٹی آف ویٹرنری سائینسز، لاہور
یونیورسٹی آف ویٹرنری سائینسز، لاہور

ڈی وی ایم کی سیکنڈ ایئر کی طالبہ ثوبیہ اعجاز کا کہنا ہے کہ وہ آزاد کشمیر سے لاہور صرف اس ڈگری کے حصول کے لیے آئی ہیں۔

ان کے بقول اُن کے علاقے میں تقریباً ہر خاندان کا انحصار مال مویشی کے کاروبار پر ہے، لیکن علاقے میں تعلیم یافتہ ڈاکٹرز کی کمی کے باعث جانوروں کو بہتر علاج معالجے کی سہولت میسر نہیں۔

ثوبیہ کہتی ہیں وہ ڈگری حاصل کر کے اپنا کلینک بنائیں گی جس کے بعد ان کے علاقے میں جانوروں کو صحت کے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

لاہور کی اس یونیورسٹی میں پالتو جانوروں کاPET" کلینک" بھی موجود ہے، جہاں جانوروں سے پیار کرنے والے افراد اپنے پالتو جانوروں کو علاج معالجے کی غرض سے لاتے ہیں۔ اور خواتین کی ایک بڑی تعداد پالتو جانوروں کا جنرل چیک اپ اور سرجری کرتی دکھائی دیتی ہے۔

یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عُہدے پر تعینات ڈاکٹر عظمی فرید دُرانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ گزشتہ دس پندرہ برسوں میں لڑکیوں کا رُحجان اس شعبے میں ایسے بڑھا ہے کہ کُچھ طالبات لیب ورک میں جبکہ بعض ڈائیگناسٹک کے شعبے میں جا رہی ہیں، کُچھ پریکٹیکل کی طرف آرہی ہیں لیکن زیادہ تر ہماری طالبات کا رُحجان پیٹ اینڈ اینیمل پریکٹس کی طرف بڑھ گیا ہے۔

ڈاکٹر عظمیٰ کہتی ہیں کہ فارغ وقت میں بھی طالبات یہاں آجاتی ہیں اور زیادہ سے زیادہ سیکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں پالتو جانور رکھنے کا رُحجان زیادہ ہوتا جا رہا ہے، اسی لئےاب تو بُہت سی لڑکیوں نے اپنے پرائیویٹ کلینک بھی کھول رکھے ہیں۔

اس شعبے میں خواتین کا آنا محض حادثہ یا اتفاق نہیں رہا بلکہ اب یہ ایک شوق بن چُکا ہے، جس میں سرکاری اسپتالوں یا تعلیمی اداروں میں نوکری ملنے والوں کو پُرکشش عُہدہ اور پے اسکیل بھی ملتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG