رسائی کے لنکس

logo-print

جعلی اکاؤنٹس کیس میں انور مجید بیٹے سمیت گرفتار


سپریم کورٹ نے دیگر دو ملزمان علی کمال مجید اور مصطفیٰ ذوالقرنین مجید کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا حکم دے دیا ہے۔

پاکستان میں جعلی بینک اکاؤنٹس کے کیس میں سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی اور 'اومنی گروپ' کے مالک انور مجید کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں کمرۂ عدالت کے باہر سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید بدھ کو جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں کی منتقلی سے متعلق مقدمے کی سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے 'ایف آئی اے' نے انہیں عدالت کے باہر سے گرفتار کرلیا۔

سپریم کورٹ نے دیگر دو ملزمان علی کمال مجید اور مصطفیٰ ذوالقرنین مجید کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا حکم دے دیا ہے۔

بدھ کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے انور مجید اور ان کے بچوں کو مقدمے میں شاملِ تفتیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے بچوں کے نام ای سی ایل میں نہ ڈالنے کی استدعا مسترد کردی۔

عدالت نے قرار دیا کہ بچے ملوث نہ ہوئے تو تفتیش میں کلیئر ہو جائیں گے۔ انور مجید اور ان کے بچوں کی مزید حاضری کی ضرورت نہیں۔

سپریم کورٹ نے 'اومنی گروپ' کے بینک اکاؤنٹس بحال کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بننے تک ملزمان کی جائیداد قرق رہے گی۔

مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ کی سربراہی چیف جسٹس ثاقب نثار نے کی۔

چیف جسٹس نے ملزمان کے وکیل کی وہ درخواست بھی مسترد کردی جس میں انہوں نے جے آئی ٹی کی تشکیل پر دلائل دینے کے لیے وقت دینے کی استدعا کی تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں بھی جے آئی ٹی بناکر اسے سپروائز کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاناما مقدمے میں بنائی جانے والی جے آئی ٹی میں حساس اداروں سے متعلق غلط فہمی تھی۔ میں سمجھتا تھا کہ خفیہ ایجنسیوں کے افسران کے نام بعد میں شامل کیے گئے۔ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے لوگ چوہدری نثار کی ڈان لیکس کے معاملے پر بنائی گئی 'جے آئی ٹی' میں بھی تھے۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 28 اگست تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ اس مقدمے کی گزشتہ سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا تھا کہ پاناما جے آئی ٹی میں ایجنسی والوں کو صرف تڑکہ لگانے کے لیے رکھا ہوگا۔

جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں 'ایف آئی اے' اب تک 29 جعلی بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگا چکی ہے جن کے ذریعے 35 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی۔

اس کیس میں بہت سی بااثر شخصیات اور بعض بینکوں کے سربراہان کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔

'ایف آئی اے' اس مقدمے میں چیئرمین پاکستان اسٹاک ایکسچینج حسین لوائی کو گرفتار کر چکی ہے جب کہ تحقیقاتی ادارے نے سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کو بھی مقدمے میں ملوث قرار دیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کی رقم وصول کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG